آئی ایم ایف اور پاکستان کے مسائل: ایک معاشی تجزیہ

محمد ندیم بھٹی

پاکستان کی معیشت کئی دہائیوں سے آئی ایم ایف کی انگلی تھامے چل رھی ھے۔ جب بھی مالی بحران سر اٹھاتا ھے، زرمبادلہ کے ذخائر خشک ھوتے ھیں، یا درآمدی بل قابو سے باہر ھو جاتا ھے، تو حکومتِ وقت فوری طور پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹاتی ھے۔ لیکن سوال یہ ھے کہ کیا آئی ایم ایف پاکستان کی معاشی بیماری کا علاج ھے؟ یا خود ایک ایسی "دوائی" بن چکا ھے جو وقتی آرام تو دیتا ھے مگر اصل مرض کو جڑ سے ختم کرنے کے بجائے مزید بگاڑ پیدا کرتا ھے؟
پاکستان نے پہلی بار 1958 میں آئی ایم ایف سے قرض لیا۔ اس وقت ملک میں صنعتی ترقی کے آغاز کی کوششیں جاری تھیں اور حکمرانوں کو امید تھی کہ غیر ملکی قرضوں سے معیشت کو رفتار ملے گی۔ مگر یہ امیدیں جلد ھی زنجیروں میں بدل گئیں۔ اب تک پاکستان 23 سے زائد مرتبہ آئی ایم ایف سے قرض حاصل کر چکا ھے، اور ہر بار شرائط کا ایک نیا پہاڑ عوام پر لاد دیا گیا۔
ہر حکومت آئی ایم ایف کو ناگزیر قرار دیتی ھے، کیونکہ فوری طور پر زرمبادلہ درکار ھوتا ھے تاکہ درآمدات، قرضوں کی قسطوں، اور دیگر واجبات کی ادائیگی ممکن ھو سکے۔ مگر اس کے بدلے میں جو اقدامات کرنے پڑتے ھیں، وہ براہِ راست عوام کو متاثر کرتے ھیں۔ بجلی، گیس، پٹرول، اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، سبسڈی کا خاتمہ، روپے کی قدر میں کمی، اور ٹیکسوں کا بوجھ، یہ سب وہ اقدامات ھیں جو آئی ایم ایف کی "اصلاحاتی پالیسیوں" کے نام پر لاگو کیے جاتے ھیں۔
دوسری طرف، آئی ایم ایف کے نمائندے بار بار یہی کہتے ھیں کہ پاکستان میں نظام کی خرابیوں کو ٹھیک کیے بغیر معیشت بہتر نہیں ہو سکتی۔ ان کے مطابق ٹیکس نظام کمزور ھے، اشرافیہ مراعات یافتہ ھے، بجلی چوری ھوتی ھے، سرکاری ادارے خسارے میں ھیں، اور کرپشن ہر شعبے میں جڑیں پکڑ چکی ھے۔ ایسے میں اگر کوئی ادارہ اصلاحات پر زور دیتا ھے تو کیا اسے قصوروار کہا جا سکتا ھے؟ یا اصل مسئلہ پاکستان کا داخلی معاشی ڈھانچہ ھے؟
آئی ایم ایف کا بنیادی مقصد قرض دینا نہیں بلکہ معاشی نظم و ضبط پیدا کرنا ھے۔ یہ ادارہ چاہتا ھے کہ جس ملک کو قرض دیا جا رھا ھے، وہ قرض واپس کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ھو۔ اسی لیے وہ سخت شرائط عائد کرتا ھے تاکہ آمدنی بڑھے، اخراجات کم ھوں، اور معیشت میں شفافیت آئے۔ مگر مسئلہ یہ ھے کہ یہ "شفافیت" ہمیشہ عوام کے خون سے حاصل کی جاتی ھے، کبھی مراعات یافتہ طبقے سے نہیں۔
پاکستان میں آئی ایم ایف کے پروگرامز کو ہمیشہ سے "معاشی غلامی" کے طور پر دیکھا جاتا ھے۔ تنقید کرنے والے کہتے ھیں کہ یہ ادارہ دراصل ترقی پذیر ممالک کو عالمی سامراج کے تابع کرنے کا ذریعہ ھے۔ جب ایک ملک اپنی مالی خودمختاری کھو دیتا ھے تو وہ اپنی پالیسیز بھی خود نہیں بنا سکتا۔ اسے بجٹ سے لے کر سبسڈی تک، ہر چیز آئی ایم ایف سے پوچھ کر طے کرنی پڑتی ھے۔
کچھ ماہرین کا کہنا ھے کہ آئی ایم ایف سے لین دین صرف ایک وقتی حل ھے، جس سے وقتی سکون تو ملتا ھے، لیکن اصل مسئلے حل نہیں ھوتے۔ یہ بالکل ایسے ھے جیسے ایک مریض کو درد کی گولی دی جائے، مگر اصل بیماری کا علاج نہ کیا جائے۔ پاکستان کے حکمرانوں نے ہمیشہ وقتی سہارا لیا، مگر طویل المدت منصوبہ بندی کو نظر انداز کیا۔ یہی وجہ ھے کہ ہم آج بھی وہیں کھڑے ھیں، جہاں کئی دہائیاں پہلے تھے۔

سوال یہ ھے کہ اگر آئی ایم ایف پاکستان کی بیماری کا علاج نہیں تو پھر کیا متبادل ھے؟ کیا ہم اتنے خود کفیل ھو چکے ھیں کہ بیرونی امداد کے بغیر اپنی معیشت چلا سکیں؟ بدقسمتی سے جواب نفی میں ھے۔ پاکستان کی معیشت تاحال غیر مستحکم ھے۔ برآمدات کم، درآمدات زیادہ، زرعی پیداوار سست، صنعتی ترقی غیرمسلسل، اور سب سے بڑھ کر مالی نظم و ضبط کا فقدان۔ ان تمام وجوہات کی بناء￿  پر ہم بار بار آئی ایم ایف کی دہلیز پر جاتے ھیں۔

ہم نے کبھی مقامی وسائل پر انحصار نہیں کیا، نہ ہی ہم نے ایسے معاشی ماڈلز اپنائے جو پاکستان کے زمینی حقائق سے ہم آہنگ ھوں۔ ہم نے ہمیشہ بیرونی قرضوں کو ترقی کا ذریعہ سمجھا، اور اپنی اقتصادی خودمختاری کو گروی رکھ دیا۔ جب تک یہ سوچ نہیں بدلے گی، ہم کبھی خود مختار معیشت کے حامل نہیں بن سکیں گے۔

اگر ہم واقعی اس ادارے سے نجات چاہتے ھیں تو ہمیں اندرونی اصلاحات پر توجہ دینا ھو گی۔ ہمیں اپنے مالی وسائل بڑھانے ھوں گے، عوامی اعتماد بحال کرنا ھو گا، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ھو گا، اور سرکاری اداروں کو منافع بخش بنانا ھو گا۔ ہمیں اپنی زرعی اور صنعتی پالیسیوں کو اس طرح ترتیب دینا ھو گا کہ برآمدات میں اضافہ ھو، اور درآمدی اشیاء￿  پر انحصار کم کیا جا سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ ہمیں نئی صنعتوں کو فروغ دینا ھو گا، خصوصاً انفارمیشن ٹیکنالوجی، ای کامرس، بایو ٹیکنالوجی، اور گرین انرجی جیسے شعبے، جن سے دنیا میں انقلاب آ رھا ھے۔ اگر پاکستان ان شعبوں میں سرمایہ کاری کرے، نوجوانوں کو ٹریننگ دے، اور کاروبار کا ماحول بہتر بنائے، تو ہم نہ صرف آئی ایم ایف سے نجات حاصل کر سکتے ھیں بلکہ ایک مضبوط اور خود انحصار معیشت بھی قائم کر سکتے ھیں۔

معاشی خودانحصاری صرف نعرہ نہیں، ایک مکمل قومی حکمت عملی کا تقاضا کرتی ھے۔ ہمیں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سنجیدگی سے سرمایہ کاری کرنی ھے۔ صرف بیرونی قرضوں پر تکیہ کرنے سے نہ تو ترقی ممکن ھے اور نہ ہی خودمختاری حاصل کی جا سکتی ھے۔ جب تک ہم خود پر اعتماد نہیں کریں گے، دنیا بھی ہم پر اعتماد نہیں کرے گی۔

آج وقت کا تقاضا ھے کہ ہم آئی ایم ایف سے تعلقات کو ایک وقتی سہارے کے طور پر لیں، مستقل حل کے طور پر نہیں۔ ہمیں اس ادارے کی "علاج نما" پالیسیاں صرف تب تک برداشت کرنی چاھئیں جب تک ہم اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ھو جاتے۔ مگر یہ کھڑا ھونا صرف دعوؤں، تقریروں، اور پریس کانفرنسوں سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے عملی اقدامات، استقامت، اور قومی عزم کی ضرورت ھے۔

ملکی سیاسی استحکام بھی ایک بنیادی شرط ھے۔ جب تک سیاسی قیادتیں ایک دوسرے کو گرانے میں مصروف رھیں گی، کوئی معاشی اصلاح ممکن نہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک مشترکہ معاشی ایجنڈے پر متفق ھونا ھو گا۔ پارلیمنٹ کو صرف قانون سازی کا ادارہ نہیں، بلکہ معیشت کی رہنمائی کا مرکز بنانا ھو گا۔

آج پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک سوال چھوڑ دینا ضروری ھے: کیا آپ چاہتے ھیں کہ اگلی نسلیں بھی اسی طرح ہر چند سال بعد آئی ایم ایف کے در پر دستک دیتی رہیں؟ اگر نہیں، تو ابھی سے معاشی شعور کو فروغ دینا ھو گا۔ کاروبار کو فروغ دینا ھو گا، ملکی مصنوعات کو ترجیح دینا ھو گی، اور محنت، دیانت، اور خود انحصاری کو اپنا شعار بنانا ھو گا۔
پاکستان کے اربابِ اختیار کو بھی یہ سمجھنا ھو گا کہ قومی غیرت صرف تقریروں میں اچھی لگتی ھے، حقیقی غیرت وہ ھے جو قوم کو خود مختار بنا دے۔ ہمیں بار بار علاج کے لیے جانے کے بجائے مرض کو جڑ سے ختم کرنا ھے۔ آئی ایم ایف کا علاج وقتی ھو سکتا ھے، مگر اگر ہم نے معاشی خود کفالت کا راستہ نہ اپنایا تو یہ علاج ھی ہماری مستقل بیماری بن سکتا  ھے۔