فرخ ریاض بٹ
ربیع الاوّل اسلام کا وہ مبارک مہینہ ہے جس میں رب العالمین نے امام الانبیا،سیدالمرسلین،خاتم النبیین، پیغمبر امن و سلامتی، محسن انسانیت، سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت مجسم بناکر اس خاکدان عالم میں بھیجا۔آپ ؐکی ولادت با سعادت ہوئی توآفتاب رسالت طلوع ہوا، دنیا توحید کے نور سے روشن و منورہوئی، تاریخ کے مثالی دور کا آغاز ہوا۔یہ ماہ مبارک سرکاردو جہاںکی ولادت اور آپ ؐکی تشریف آورری کے حوالے سے ماہ و سال کی پوری تاریخ میں ایک منفرد حوالہ رکھتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی روشن تعلیمات اور نورانی اخلاق کے ذریعہ دنیا سے نہ صرف کفر و شرک اور جہالت کی مہیب تاریکیوں کو دور کردیا بلکہ لہوو لعب، بدعات و رسومات اور بے سروپا خرافات سے مسخ شدہ انسانیت کو اخلاق و شرافت، وقار و تمکنت اور سنت و شریعت کے زیور سے آراستہ وپیراستہ کر دیا۔حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک ایک اعلیٰ ترین عبادت ہے، بلکہ روح ایمان ہے۔ آپؐ کی ولادت، آپؐ کا بچپن، آپؐ کاشباب، آپ ؐکی بعثت، آپ ؐکی دعوت، آپؐ کا جہاد،آپؐ کی عبادت ونماز، آپؐ کے اخلاق، آپؐ کی صورت وسیرت، آپؐ کازہدو تقوی، آپ کی صلح وجنگ، خفگی و غصہ، رحمت و شفقت، تبسم و مسکراہٹ،آپ ؐکا اٹھنابیٹھنا،چلنا پھرنا، سونا جاگنا، الغرض آپ کی ایک ایک ادا اور ایک ایک حرکت و سکون امت کیلئے اسوہء حسنہ اور اکسیر ہدایت ہے اور اس کا سیکھنا سکھانا، اس کا مذاکرہ کرنا اور دعوت دینا امت کا فرض ہے۔ہمیشہ سے اہل اسلام حضور نبی اکرمؐ کی ولادت باسعادت کے مہینے میں خوشی مناتے آئے ہیں، وہ اس ماہ مبارک میں دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں اور اس کی راتوں میں انواع و اقسام کے صدقات و خیرات بھی کرتے ہیں،اظہارمسرت اور نیکیوں میں کثرت کرتے ہیں اور میلاد شریف کے بیان کیلئے محافل وغیرہ کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان اہل محبت و عقیدت پر میلاد شریف کی برکات سے ہر طرح کے فضل عظیم کا ظہور ہوتا ہے۔ بارہ ربیع الاول شریف بروز پیر، مکہ المکرمہ کے محلے بنی ہاشم میں آپؐ کی ولادت باسعادت صبح صادق کے وقت ہوئی۔ بارہ ربیع الاول ہی میں آپ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے ، اسی ماہ کی دس تاریخ کو محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین سیدہ حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا تھا۔ اسی تاریخ سے کائنات کی ظلمت و تاریکیاں نورانیت میں تبدیل ہونے لگیں۔ انسان کا مردہ دل پھر سے تازگی پانے لگا۔ کفر و شرک کی گھنگور گھٹائیں ختم ہونے لگیں۔ انسانوں کو انسانیت کے صحیح اور حقیقی مفہوم سے عملی آشنائی ہونے لگی۔ ہر قسم کی خرافات اور بے بنیاد رسم و رواج کی بندشوں میں جکڑا ہوا انسان آزاد ہو کر اپنے مقاصد زندگی، اور وجہ تخلیقات کو سمجھا۔ اپنے معبود حقیقی کو جانا، عبد و معبود کے رشتوں کو سمجھا۔یہی وجہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کیلئے حضرت محمد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا عشق غیر فانی دولت بن چکا ہے، اس محبت کا اظہارشیدائیانہ کرتے رہتے ہیں اور بارہ ربیع الاول کے موقع پر مختلف طریقے سے اظہار مسرت کرتے ہیں۔جو گوناگوں احسانات و نوازشات کا ہلکا سا شکر یہ ہے ۔ہر ملک اور قوم کے لوگ اپنے رہنما، لیڈر، اور دانشوروں کا یوم پیدائش مناتے ہیں جبکہ ان شخصیتوں سے فائدہ کسی ایک ملک یا ایک قوم کو یا کسی ایک خطے کو یا کسی ایک خاص نظریات و مکتب فکر کو ہی ہوتا ہے ،مگر یوم پیدائش پر خراج عقیدت ضرور پیش کرتے ہیں۔یہاں اس ذات گرامی کے یوم پیدائش کی بات اور خراج عقیدت پیش کرنے کا معاملہ ہے۔ جو ہر انسان، جانور، پرندے، چوپائے، پیڑ پودے اور ہر چیز کے نبیؐ ہیں سب کا وجود ان کے طفیل ہے، سب کو ان سے برابر کا فائدہ ہے، وہ تمام انسانوں کے نبیؐ، کائنات کی تمام اشیاء کیلئے رحمت ہی رحمت۔ ان کو سب سے پیار ہے۔ انہوں نے جو بتایا سب کیلئے، جو کیا سب کیلئے، جو ان کی باتوں کو مانا، ان کی باتوں پر چلا، ان کے طریقوں کو اپنایا، اس کے وارے نیارے ہو گئے، دنیا کی ہر بھلائی مل گئی اور آخرت کی سرخروئی بھی مل گئی، اللہ کی خوشنودی بھی مل گئی۔ پھر ایسے عظیم محسن، ایسے پیارے نبیؐ، جن سے بڑھ کر اللہ کے سوا کوئی نہیں، کوئی شخصیت کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہو، مگر سرکار دو جہاں سے اس کی نسبت ذرے اور آفتاب جیسی ہے۔ کسی ذرے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ،مگر آفتاب کی برتری کا عالم کچھ اور ہے، مگر محمدرسول اللہ کی عظمت کے آگے آفتاب بھی ایک ذرہ ہے آفتاب اپنی شعاعوں سے بیک وقت زمین کا نصف حصے کو روشن کرتا ہے، مگر نبی کریمؐ کی ضوفشانی،ان کے علم و حکمت، نبوت و رسالت کی روشنی زمین ہی نہیں، ہر عالم کے ایک ایک ذرے پر پڑ رہی ہے۔
بارہ ربیع الاول کی تاریخ، انسانی تاریخ کا عظیم ترین دن ہے، اس دن کو شایان شان طریقے سے خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ پوری انسانی برادری اور انسانیت کو دنیا و آخرت کی بھلائی کے حسین طور طریقوں کو نبی کریم صلی اللہ تعالی ٰعلیہ وآلہ وسلم کی سنتوں کے آئینے میں اخذ کرنے پر گزرانا چاہئے۔ ہر جشن مسرت، ہر جلسہ میلاد بامقصد اور مؤثر ہونا چاہئے۔ تمام مسلمانوں کو اس دن کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے گذشتہ کا احتساب اور آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرکے فلاح وا صلاح انسانیت کیلئے ایک نئے جوش و جذبے کے ساتھ مشغول ہو جانا چاہئے، اس تاریخ کے تمام جلسوں، میلادوں اور اجتماعات میں سرکار دو جہاں صلی اللہ تعالی ٰعلیہ وآلہ وسلم کی سماجی، سیاسی، معاشی، معاشرتی اور عائلی زندگی کے تابناک گوشوں کو اجاگر اور بیان کرکے عوام الناس کو بامقصد عملی زندگی کے آغاز کا سبق دینا چاہئے۔حضوراکرمؐکی رواداری، مساوات، عورتوں کے حقوق و احترام، بچوں کی تعلیم و تربیت و ذہنی تعمیر، حق کی پاسداری، برائیوں کی بیخ کنی کے حسین طریقے، بھائی چارگی، پڑوسیوں کے حقوق، وغیرہ پر روشنی ڈالنا، انہیں بیان کرنا بہت ضرروی ہے تاکہ آج کے بھٹکے ہوئے انسانوں کو تباہ ہوتے سماج و معاشرے کو سدھارنے کیلئے سچا جذبہ میسر آ سکے اور عظمت محمدیہ بھی اجاگر ہو اور دیگر اقوام پر بھی اچھے اثرات مرتب ہو سکیں۔ ہر مسلمان خواص سے عوام تک کی ذمہ داری اور عقیدت و محبت رسولؐ کا تقاضا ہے کہ اپنے آپ کو رسول پاک ؐکی سنتوں کے سانچے میں ڈھالنے کا عزم مصمم کر لیں اور ہر منزل پر، ہر موقعہ پر ان سنتوں کی عملی تفسیر بن کر سامنے آئیں، دل، زبان اور عمل اور میں یکسانیت پیدا کریں، ریاکاری و نام و نمود سے بچیں، خلوص،ایثار و قربانی پر کمربستہ رہیں، صبر و استقلال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔اپنی صورت و شکل ،وضع قطع کو اسلامی تہذیب کا آئینہ بنائیں۔ ہاتھ، پاؤں اور زبان سے کسی کو اذیت نہ دیں۔ مظلوم کی حمایت، حق کی پاسداری کریں، علمائے کرام، حفاظ، مساجد کے اماموں کی عزت و احترام کریں۔ اللہ تعالیٰ ہر عیدمیلادالنبی کے موقعہ پر تمام مسلمانوں کو نیا عزم نیا حوصلہ اور عملی جذبہ عطا فرما کر سنت رسول پاک کا آئینہ بنائے۔ آمین