تحریرعبدالرزاق برق
پوری دنیا کے لئے سیکورٹی رسک کی۔حثیت رکھنے والا اورعرب خطے کا ایک اہم ملک شام ایک عالمی شطرنج بننے کے ساتھ عرب اسرائیل تنازعہ کاایک اہم فریق بھی رہا ہیے مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والا یہ ملک اورپیغمبروں کی سرزمین اسی ملک کی سب سے طاقتورمسلح اپوزیشن حیات تحریرالشام کی ہاتھوں میں پہلی باربغیرخون خرابے کی آنے سے الاسدخاندان کی۔53سالہ حکمرانی کاخاتمہ۔کردیا حیات تحریرالشام کی چنددنوں میں اس اہم تاریخی فتح نے پوری دنیا میں حیرانی کی ایک۔لہردوڑی گِیئی جبکہ واشنگٹن تل ابیب ایران اورپاکستان کے علاقہ پارہ چنارمیں سوگ کاسماں رہاہیے شام کی عسکریت پسندوں کی جانب سے اس تاریخی آزادی کی خوشی میں اقصی میں پنیرکی میٹھیاں تقسیم کی گئی جبکہ ہیتہ تحریرالشام کی۔طرف سے دمشق کے اس فتح سے امریکہ اسرائیل ترکی سعودی عرب اورامارات کی دوستی مذیدپکی ہوچکی اورفلسطین کے مظالم کی داستان پس پردہ جاچکی شام کے باغیوں کی طرف سے نیاسورج اہل شام کے لئے خوشی اورکامیابی کاہوگا کیا یہ آزادی غزہ کو بھی نصیب ہوگی کیونکہ اسرائیل کاباڈرشام کے ساتھ لگتاہیے توپہلے غزہ اورفلسطین کو آزادکروالیتے پھرآگے چلتے شام کے لوگوں کوروٹی پانی وغیرہ تومیسرتھے جوغزہ اورفلسطین میں نہیں کیا اس تاریخی فتح کے بعدشام توتقسیم نہیں ہوں گے ؟یاشمالی شام حلب سمیت ترکی کاہوگا شمال مشرق کے حصے پرکردوں کاقبضہ تونہیں ہوگا جنوبی حصہ پہ جہاں پرتیل کے کنویں ہیں وہاں امریکہ قبضہ جولان سائیڈ کیلازکیہ پراسرائیل کاقبضہ اورطرطوس پرروسی قبضہ حما حمص اوردمشق پرتکفیروں کاقبضہ تونہیں ہوگا اہم سوال یہ ہیے کہ حیات تحریرالشام کی طرف سے دمشق پرقبضہ کرنے سے کیا شام میں ایک دہائی سے جاری خانہ جنگی ختم ہوجائے گی؟ کیونکہ اسی خانہ جنگی میں چھ لاکھ افرادہلاک ہوچکے ہیں کیا دنیا کے سپرممالک روس امریکہ ترکی ایران اوریورپی ممالک کی۔مداخلتیں ختم ہوجائے گے ؟ کیا 53 سال میں شام کے ہزاروں لوگوں پرمختلف قسم کے جو مظالم کئے گئے حیات تحریرالشام کی۔شام پرقبضہ کرنے سے وہ مظالم اب نہیں ہوں گے؟ شام کی خانہ جنگی کاسب سے ازیت ناک اورمسلم دنیا کے لئے خطرناک پہلویہ رہا کہ حکومت اورباغیوں کی اس جنگ کوبعض ممالک نے اپنے مفادات کی خاطرفرقہ ورانہ رنگ دیاگیا اوردنیابھر سے فرقہ ورانہ بنیادوں پررضاکارعسکریت پسندبھرتی کرکے لڑنے کیلئے شام میں بھجے گئے اورخود روس اورامریکہ دونوں نے اپنی اپنی پراکسزکومیدان میں اتارا اوران کے حمایت میں فضائی حملے کئے گئے جبکہ گزشتہ دس سال سے ایک ایسی خانہ جنگی کاشکارتھا جس میں اس کے پڑوسی ممالک کے ساتھ ساتھ دنیا کی بڑی قوتیں بھی ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار رہیں لیکن دمشق پرحیات تحریرالشام قبضہ کرنے سے دمشق اورکابل کے درمیان سینکڑوں کلومیٹرکافاصلہ رکھنے کے باوجود جنوبی ایشیا کی ایک اورملک افغانستان کی تحریک طالبان کے طرف سے تین سال قبل کی گئی کوشش سقوط کابل سے بہت دلچسپ مشابہت مماثلتیں اورفرق پہلی بار خطے میں سامنے نظرآیا ہیے دونوں ممالک طویل خانہ جنگی بین الاقوامی مداخلت اورمرکزی حکومتوں کے خاتمے جیسے حالات کاسامنا کرچکے ہیں اگرچہ دونوں واقعات اپنے منفرد سیاسی جغرافیائی اورسیاق وسباق ہیں مگردونوں مسلح گروہوں یعنی تحریک طالبان افغانستان میں اورہیتہ تحریرالشام شام میں تیزرفتاری سے ترقی کرتے ہوئے بہت کم وقت میں بڑے علاقوں شہروں پر قبضہ کرلیا جوکہ حکومتوں کی کمزوری اورفوجیوں کے حوصلے پست ہونے کی علامت ہییافغانستان کی طرح شام کی حکومت بھی اپنے بینالاقوامی اتحادیوں کی حمایت میں کمی کی وجہ سے اپنے مخالفین کے۔ساتھ جنگ کرنے میں ناکام رہی کیونکہ ایران روس حزب اللہ کی حمایت محدودتھی اوران دوممالک ایران اورروس نے شامی فوجوں کی مددنہیں کی اس لئے انہوں نے ہیتہ تحریرالشام کے ساتھ مزاحمت نہیں کی اوران کے ساتھ جنگ کرناچھوڑدیا افغانستان میں امریکہ اورنیٹونے اشرف غنی کی۔حکومت کی مددنہ کرتے ہوئے ان کی فوجی مدد نہ کرنے سے وہاں ٹھنڈی پڑگئی اس لئے انہوں نے اپنے افواج کاافغانستان سے بہت جلدانخلا شروع کردیاگیا دمشق اورکابل میں دونوں حکومتیں گرنے پردونوں شہروں کے اندرجیلیں کھولی گئیں ہیتہ تحریرالشام کا پہلاکام یہ کیاگیا کہ۔دمشق کی بڑی جیل کے دروازے کھول دئیے گئے اوراس میں موجودتمام قیدیوں کورہاکردیاگیا کابل میں بھی تحریک طالبان افغانستان نے کابل کے ایک جیل سے تمام قیدیوں کو رہاکردیاگیا یہ اقدام اس لئے کیاگیا کہ دونوں ممالک کے حالات میں سیکورٹی کے فقدان کی ایک اہم علامت تھی دونوں ممالک کے سربراہان مملکت یعنی صدورآخری لمحات میں اپنے اپنے عہدے چھوڑ کرگئے افغانستان کے سابق صدراشرف غنی کابل سے ایک خصوصی جہازمیں بیھٹ کردوبئی چلے گئے جبکہ شام کے بشارالاسد اوران کے اعلی حکومتی اہلکارایک جہازکے زریعے دمشق سے ماسکوپہنچ گئے دونوں ممالک کے عسکریت پسندوں کوملکی اوربین الاقوامی مسائل کاسامنا ہیے کہ اپنی حکومتوں کوقانونی حثیت کیسے حاصل کی جائے اس میں ملکی اقلیتوں پڑوسی ممالک اوربین الاقوامی اداروں کا ردعمل اہم ہے شام مشرق وسطیٰ کے مرکزمیں ہیے اس میں بہت سے بین الاقوامی اورعلاقائی اداکارشامل ہیں جیسے ایران روس اورترکی جبکہ افغانستان جنوبی ایشیا اوروسطی ایشیا کے درمیان میں واقع ہیے اوربین الاقوامی مداختلوں کی اقسام سے مختلف ہیں افغانستان میں تحریک طالبان ایک مزہبی تحریک جواسلامی شریعیت پرمبنی حکومت بنانے پراصرارکرتی ہیے جبکہ شام کے عسکریت پسند متنوع ہیں اوران میں اتحادکافقدان ہیے شامی عسکریت پسندوں کاجھنڈہ بھی افغان طالبان کی طرح سفیدہیے اوراس پرسیاہ رنگ لفظ میں کلیمہ شریف لکھاہوا ہیے لیکن اس سفیدجھنڈے کے ساتھ شام کاقومی پرچم بھی استعمال کرتے ہیے مگرطالبان نے افغانستان کے اشرف غنی اورحامدکرزئی کی۔دور میں بنایاگیا تین رنگوں والاپرچم ہٹایا ہیے اورشامی عسکریت پسندوں کی۔طرح سفیدجنھڈہ۔استعمال کرتے ہیے افغانستان کے تحریک طالبان ایک مسلح تنظیم ہیے اورایک دیوبندی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں جسکی تعداد کوئی تیس ہزارکے قریب ہیے طالبان تحریک میں سب سے زیادہ پشتوزبان بولنے والے بھی۔شامل ہیے اورتمام طالبان ملا ہیں جبکہ شام کے اپوزیشن ہیتہ تحریرالشام مختلف فرقوں میں تقسیم ہیے جیسے نیشنل فرنٹ فارلیبریشن احرارالشام۔جیش العزہ ترکی حمایت نیشنل آرمی اورنورالدین الزنکی تحریک سمیت اپوزیشن کے دیگرگروہ بھی شامل ہیں شام کے ہیتہ تحریرالشام دوحا معاہدے کے تحت نہیں آئے افغان طالبان نے 2021 میں امریکہ اورنیٹو کے ساتھ اقوام متحدہ کے موجودگی میں دوحا میں ایک معاہدہ کیاگیا جس پرامریکی حکومت کے خاص نمائندے برائے افغانستان زلمی خلیل زادنے اورطالبان کے رہنما ملا عبدالغنی برادر نے باقاعدہ دستخط کئے گئے تھے اورہیتہ تحریرالشام نے کسی معاہدے کے تحت نہیں آئے طالبان نے اس سے پہلے 1996میں افغانستان میں حکومت کی تھی اوروہ سابقہ حکومت کرنے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں شام کے اپوزیشن کے لوگ کئی گروہ میں تقسیم ہونے کے ساتھ حکومت کرنے کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے شام ہیتہ تحریرالشام جوکہ حکومت کے مخالف ہیے اس میں ایک تحریک اورایک نظرئیے کے لوگ شامل۔نہیں ہیں
اوران میں درجنوں چیزوں کامتفاوت مرکب ہیں ان کی جڑیں داعش القاعدہ سیکولرزم اوردیگرتک پہنچتی ہیں اوران کی آپس میں جنگیں لڑنے کاایک تاریخ بھی ہیے ان میں کچھ مشرق کے مفادات کے لئے کام کرتے ہیں ہوسکتا کہ اس تقسیم کی وجہ سے خانہ جنگی دوبارہ شروع نہ ہوجائے شام کے عسکریت پسندوں اورافغان طالبان کے درمیان خیالات اورعقائدمیں زیادہ فرق نہیں البتہ حکومت اوران کے نفازمیں فرق ہوگا شام میں براہ راست بین الاقوامی قوتیں جیسے روس ایران ترکی ملوث ہیں لیکن افغانستان میں امریکہ خفیہ طریقے سے طالبان کو پیسے مختلف زرائع سے بھجتے ہیں جس کی وجہ آج افغانستان میں افغان کرنسی پاکستان ایران انڈیا سے زیادہ مظبوط ہیے ہیتہ تحریرالشام اورافغان طالبان کی حکومت کے لئے قانونی حیثیت کامسلہ سب سے بڑاچیلنج ہیے اگربین الاقوامی قانونی حثیت حاصل نہ کی گئی تودونوں حکومتوں کوملکی اوربین الاقوامی چیلنج سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ بین الاقوامی پابندیوں سے دونوں ممالک کی معشیتوں کوشدیدنقصان پہنچا ہیے اگرمقامی حکومتوں نے معاشی صورتحال ٹھیک نہیں کیا تووہ عوامی حمایت سے محروم ہوجائیں گی اگرچہ دونوں ممالک کے لئے پڑوسی ممالک کی مداخلتیں جاری ہیں جبکہ افغانستان میں پاکستان ایران چین روس کی مداخلتوں اورکردارپرتوجہ دینے کی ضرورت ہیے دونوں ممالک کے واقعات میں مماثلت ہمیں کمزورحکومتوں غیرملکی مداخلت اوراندرونی عدم استحکام کے آثرات دیکھائی دے رہیے ہیں تاھم شام اورافغانستان کا مستقبل بڑی حدتک بین الاقوامی اورعلاقائی مداخلتوں عوام کے مطالبات اورحکومتوں کے روئیے سے طے ہوتا ہیے دونوں ممالک کے حالات میں بہت فرق بھی ہیے شام کے آزادی پسندرہنما اپنے لوگوں میں نظرآتے ہیں مستقبل کے نظام کے بارے میں بین الاقوامی میڈیا سیبات چیت کرتے ہیں اوراپنے لوگوں کوتمام شہریوں اقلیتوں اورخواتین کویقین دلاتے ہیں کہ اگلی حکومت بنائیں گے شام کے سابق وزیراعظم کوہیتہ تحریرالشام کے سربراہ ابومحمدالجلانی نے پوری حکومت کااختیارسونپ دیاگیا انہوں نے نہ خواتین کی یونیورسٹی بندکی نہ اسکول اورنہ اپنے آپ کو اپنے لوگوں سے چھپایا بلکہ کھلے عام منظرر پرآیا عالمی برادری کویقین دلایا کہ وہ پہلے جیسے نہیں اورپوری قوم بالخصوص تمام اقلیتوں کیلئے اقتدارمیں شمولیت کانعرہ لگایا انہوں نے سویلین جذبے میں غیرفوجی لباس میں سرکاری ٹی وی پربھاری الفاظ میں اپنی جیت کااعلان کیا دمشق کے وزیراعظم نے ویڈیوبنائی لوگوں کو یقین دلایا اورکہا کہ حکومت عسکریت پسندوں کے حوالے کرناجاری رکھے گے جبکہ کابل میں طالبان کے آنے کے وقت افغانستان کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹرعبداللہ اورسابق صدرحامدکرزئی نے کابل میں اسی طرح ویڈیوبنائی تھی شامی ہیتہ تحریرالشام نے اتوارکے دن دمشق پرقبضہ کیا اورانہوں نے پہلی ویڈیوبنائی جبکہ افغان طالبان نے بھی اتوارکے دن کابل کے ساتھ پورے افغانستان پرچنددنوں میں بغیرکسی خون خرابے کے قبضہ کرلیاتھا اورایوان صدریاآرگ میں ایسی ویڈیوبنائی جبکہ افغانستان کے موجودہ سپریم لیڈرہیبت اللہ اخوندزادہ آج تک کسی بھی ٹی وی پرنمودارنہیں ہوئے اورافغانستان میں جتنے بھی ٹی وی چینل ہیے اس پر دومہنے کے اندرپابندی لگانے کا اعلان کیا ہیے افغانستان کے اندر جتنے ٹی وی چینل میں خواتین جنرلسٹ کام کررہیے تھے وہ طالبان کی خوف سے بیرون ممالک جیسے امریکہ لندن جرمنی ترکی چلے گئے افغانستان میں ووٹ پر یقین نہیں رکھتے وہ کسی سیاسی پارٹی کو نہیں مانتے شام کے موجودہ ہیتہ تحریرالشام کے لئے خدشہ ہیے کہ اگرپڑوسی ممالک عالمی طاقتوں اورعالم اسلام نے تدبرسے کام نہ لیا اورتمام اسٹک ہولڈرزکوساتھ ملاکر معاملات احسن طریقے سے حل کرتے ہوئے سیاسی حل نہ نکالا توجنگ صرف شام تک نہیں روکے گی بلکہ پڑوسی ممالک
اورپورے عالم اسلام میں فرقہ وارانہ تصادم کی شکل اختیارکرسکتی ہیے ان حالات میں قطرمیں دوحا فورم پرشام کے پڑوسی ممالک اوردیگر اسٹیک ہولڈرز کااجلاس ایک حدتک ہی سہی خوش آئند ہییسردست اپوزیشن اتحاد الجولانی کا مستقبل کے حوالے سے یہ اعلان بھی امن کی نویدہیے کہ وہ خوداقتدارپرقبضہ کے بجائے وزیراعظم اوربشارالاسد کے اہم اتحادی کے زیرقیادت عبوری حکومت پراتفاق کا اعلان کردیا شام کے مسلے کاواحدیہ ہیے کہ oic یادوحافورم سامنے آئے پڑوسی ممالک اوردیگراسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے ایک عبوری حکومت بنائی جائے اورمقرہ ٹائم فریم کے اندرانتخابات کرواکے اقتدار منتقل کردیاجائے پاکستان اوردیگرمسلم ممالک کوچاہیے کہ وہ انتہائی چوکس رہیں شام کی فرقہ وارانہ کشیدگی کوکسی صورت بھی اپنی سرزمین پرنقب زنی کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے کیونکہ پاکستان اورامت مسلمہ کسی بھی نئے انتشارکے متحمل نہیں ہوسکتے