چین کی وزارتِ خارجہ نے ایران کی موجودہ صورتحال پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنازع شروع ہی نہیں ہونا چاہیے تھا، کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے اور عالمی معیشت پر پڑے ہیں۔
بیان میں حالیہ ایران–امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم کیا گیا اور کہا گیا کہ مذاکرات کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے۔ چین نے زور دیا کہ مسائل کا واحد حل سفارت کاری اور بات چیت ہے، جبکہ طاقت کا استعمال خطے کو مزید تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔چین نے خلیجی سمندری راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز، کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی توانائی ترسیل اور سپلائی چین کے استحکام کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے فوری اور جامع جنگ بندی ناگزیر ہے۔ چین کے مطابق پاکستان اور چین نے خطے میں امن کے لیے مشترکہ پانچ نکاتی منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مؤقف اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عالمی سیاست اور معیشت کو متاثر کر رہی ہے اور بڑی طاقتیں صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔