کشیدگی کو طویل جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنا چاہتے ہیں: صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کشیدگی کو طویل جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنا چاہتے ہیں: صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں سے گفتگو میں عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق وہ اس کشیدگی کو طویل جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنا چاہتے ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ ایران کے خلاف کارروائی کو محدود مدت میں سمیٹنے کے خواہاں ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ یہ تنازع چند ہفتوں میں ختم ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو مستقبل میں ایرانی تیل تک رسائی حاصل ہونے کے امکانات بھی موجود ہیں، جو عالمی توانائی سیاست میں اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔اپنے بیانات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران میں اپنے مشن کی تکمیل کے قریب ہے۔ ان کے بقول اس وقت ایران میں کوئی مضبوط شخصیت ایسی نہیں جو سپریم لیڈر کا کردار سنبھالنے کے لیے تیار ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران مذاکرات کی طرف مائل ہو چکا ہے اور جلد کسی معاہدے کا خواہاں ہے کیونکہ ایرانی قیادت کو ممکنہ نتائج کا خدشہ ہے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی بی-ٹو اسپرٹ بمبار طیاروں نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جس سے ایران کی جوہری صلاحیت کو شدید دھچکا پہنچا۔ ان کے مطابق ایران کی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش ناکام ہو چکی ہے۔

انہوں نے سابق صدر براک اوباما کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں ایران کی جوہری خواہشات کو تقویت ملی۔ ٹرمپ نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو ایرانی فوجی ڈھانچے کے لیے بڑا نقصان قرار دیا جس سے قیادت میں خلل پیدا ہوا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی افواج نے ایران کی جانب سے داغے گئے تقریباً 100 میزائلوں کو راستے میں ہی روک لیا، جو اہم اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کے بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اطلاعاتی جنگ کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں، جبکہ حقیقی صورتحال کا اندازہ زمینی حقائق اور سفارتی پیش رفت سے ہی لگایا جا سکتا ہے۔