وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا اسٹاف لیول معاہدہ ہو گیا ہے، جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی خدمات بھی شامل ہیں۔
وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی والدہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی گئی۔ وزیرِ اعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ آرمی چیف کی والدہ کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ کامیابی دن رات کی محنت اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہے، اور آئی ایم ایف کے معاہدے کے حوالے سے مغربی ممالک کے اوچھے ہتھکنڈوں کو ناکامی کا سامنا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور مہنگائی کے باوجود معاہدہ طے پانا حکومت کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں آئی ایم ایف کا ہدف 9 ٹریلین روپے تھا، اور رواں سال یہ ہدف 12.9 ٹریلین روپے تک پہنچا۔ پروگرام میں 1.3 بلین ڈالرز آر ایس ایف کی مد میں بھی شامل کیے گئے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے ہدف کو کم کرنے کی تجویز دی تھی، لیکن انہوں نے اسے منع کیا اور مذاکرات کے ذریعے اس ہدف کو 12.3 ٹریلین روپے تک لے آئے۔انہوں نے کہا کہ اس کامیابی میں پوری قوم نے بے پناہ قربانیاں دیں اور عام آدمی کا بھی اس معاہدے میں انتہائی اہم کردار ہے۔
وزیرِ اعظم نے آئی ایم ایف کی ایم ڈی اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا، ساتھ ہی نائب وزیرِ اعظم، وزیرِ خزانہ اور دیگر متعلقہ وزراء کی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کیا۔ٹیکس کی کلیکشن میں 26 فیصد اضافے کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ایف بی آر میں ڈیجیٹائزیشن کے اقدامات تیزی سے جاری ہیں، اور گزشتہ سال کے مقابلے میں اب تک 12 ارب روپے اضافی وصول کیے جا چکے ہیں۔وزیرِ اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قرضوں کو ختم کر کے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ضروری ہے، اور ملک کو معاشی استحکام کی منزل تک پہنچانے کے لیے ایک طویل جدوجہد درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم انتھک محنت اور لگن سے کام کرتے رہے تو پاکستان ضرور ترقی کرے گا۔چینی کے شعبے کی نگرانی کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے خود جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور چینی کی سیلز ٹیکس کی چوری پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنے کا عندیہ دیا۔ اس کے علاوہ فیس لیس انٹریکشن پر بھی کام جاری ہے۔