نمبرز کی خریدوفروخت؟ پی اے سی چیئرمین جنید اکبر پر طلبا کو بلیک میل کرنے کے الزامات

نمبرز کی خریدوفروخت؟ پی اے سی چیئرمین جنید اکبر پر طلبا کو بلیک میل کرنے کے الزامات

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر کی زیر صدارت ہوا، جس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے آڈٹ اعتراضات پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔

جنید اکبر خان نے اجلاس میں کہا کہ یونیورسٹیوں میں طلبا کو نمبرز کے لئے بلیک میل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں حال ہی میں ایک پروفیسر کی چیٹ دکھائی گئی جس سے پتہ چلا کہ امتحانات کے پرچوں کی مارکنگ اور نمبروں کا معاملہ غیر مناسب طریقے سے ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے اور یونیورسٹیوں سے شکایات آرہی ہیں کہ پیپرز کی مارکنگ کوئی اور کرتا ہے، جو بلیک میلنگ کا باعث بنتا ہے۔ اس پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی نے کہا کہ حال ہی میں وائس چانسلرز کمیٹی کی میٹنگ ہوئی تھی، جس میں سیمسٹر سسٹم کے امتحان اور نمبروں کے حوالے سے معاملات پر غور کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب بھی اس پر پیش رفت ہو گی تو کمیٹی کو آگاہ کیا جائے گا۔اجلاس کے دوران قائداعظم یونیورسٹی میں بلڈنگ پلان کی منظوری کے بغیر عمارتوں کی تعمیر کا بھی انکشاف ہوا۔

 آڈٹ بریفنگ میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی میں 3 عمارتیں بغیر سی ڈی اے کی منظوری کے تعمیر کی گئیں۔ کمیٹی کے رکن عمر ایوب نے کہا کہ سی ڈی اے بغیر این او سی کے عمارتوں کو گرا دیتی ہے، تاہم یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے بتایا کہ اس معاملے پر سی ڈی اے سے رابطہ کیا گیا ہے اور ایک ہفتے میں اس مسئلے کا حل نکل آئے گا۔قراقرم یونیورسٹی میں انجنیئرنگ سہولت کے قیام میں تاخیر سے متعلق آڈٹ اعتراض پر آڈیٹر جنرل پاکستان نے کہا کہ منصوبے میں تاخیر کے باعث 2.10 ارب روپے کا اضافی خرچہ ہوا۔ حکام نے بتایا کہ اس منصوبے میں مقامی کمیونٹی کی مزاحمت کی وجہ سے تاخیر ہوئی تھی، تاہم اب اس مسئلے کا حل کر لیا گیا ہے اور انجنیئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی تعمیر جاری ہے۔کمیٹی رکن شازیہ مری نے سوال کیا کہ کیا منصوبے کے آغاز سے قبل مقامی آبادی سے رابطہ کیا گیا تھا، جس پر سید امین الحق نے کہا کہ اصولاً منصوبے سے پہلے مقامی کمیونٹی کو اعتماد میں لیا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2004 سے یونیورسٹی کی زمین پر تنازعہ چل رہا تھا، جس کا ابھی تک حل نہیں نکالا جا سکا۔