پارا چنار شاہراہ کی بندش کے خلاف احتجاجی دھرنا 24 ویں روز میں داخل

اشیائے خوردونوش کی ترسیل میں رکاوٹ، قیمتیں آسمان سے باتیں کر نے لگیں، طلبہ کا تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ 
 پاراچنار(آئی  این پی )خیبر پختونخوا کے علاقے پارا چنارکی مرکزی شاہراہ گذشتہ 177 روز سے بند ہونے کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پاک افغان بارڈر کی بندش نے بھی معمولات زندگی کو مزید متاثر کر دیا ، جبکہ پٹرول اور ڈیزل کی عدم دستیابی کے باعث تعلیمی ادارے بند ہونے سے طلبہ کا تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔مرکزی شاہراہ بند ہونے اور اشیائے خوردونوش کی ترسیل میں رکاوٹ کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ علاقے میں بڑا گوشت 2 ہزار روپے، ٹماٹر 300 روپے، بھنڈی 600 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ 50 کلو چینی کی بوری 10 ہزار500 روپے، 13 کلو گھی 8 ہزار 800 روپے اور 40 کلو آٹے کی قیمت 6 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح پٹرول اور ڈیزل 700سے 1000روپے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا ہے۔ دوسری جانب عوامی مطالبات کے حق میں کرم پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا 24 ویں روز میں داخل ہو چکا ہے، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔ دھرنا منتظمین کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔ ٹل پاراچنار کی واحد مین شاہراہ کو عام آمد و رفت کے لیے کھولا جائے۔ تمام گرفتار افراد کو رہا کیا جائے یا اگر وہ ملزم ہیں تو عدالت میں پیش کیا جائے۔