دکی میں کوئلہ کانوں کی بندش اورہنگامی امداد کی عدم دستیابی سے مزدورمالی مشکلات کاشکار ہیں، رپورٹ
کوئٹہ (آئی این پی )ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بلوچستان کے علاقے دکی میں کوئلہ کانوں کی بندش نے مقامی مزدوروں کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا۔ سکیورٹی خطرات، غیر محفوظ کام کے حالات اور ہنگامی امداد کی عدم دستیابی کے باعث مزدور نہ صرف خوفزدہ ہیں بل کہ روزگار کے محدود مواقع کے سبب شدید مالی مشکلات کا شکار بھی ہو رہے ہیں۔ اکتوبر 2024میں دکی کی کوئلہ کانوں پر ایک دہشت گرد حملے میں 21مزدور جاں بحق ہوگئے تھے جس کے بعد کان کنوں نے ہڑتال کر دی اس کے نتیجے میں کئی کانیں بند ہوگئیں اور کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد نصف سے بھی کم رہ گئی۔ رپورٹ کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث مزدوروں کے لئے کانوں کے قریب رہنا مشکل ہوگیا جس کی وجہ سے وہ روزانہ طویل سفر کرکے کام پر پہنچنے پر مجبور ہیں۔تحقیقاتی ٹیم کے مشاہدے کے مطابق نہ صرف سکیورٹی ناکافی ہے بل کہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں مزدوروں کو فوری مدد بھی دستیاب نہیں ہوتی، اس تشویشناک صورتحال میں بھی کئی مزدور مالی مجبوریوں کے باعث ان خطرناک کانوں میں کام جاری رکھنے پر مجبور ہیں ، جہاں انہیں نہ صرف کام کے دوران حادثات کا خطرہ لاحق رہتا ہے بل کہ دہشت گرد حملوں کا خدشہ بھی مستقل موجود ہے۔ایچ آر سی پی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈوکی میں کوئلہ کانوں کی سکیورٹی کو یقینی بنائے کا مطالبہ کیا۔