کابل، نیویارک( آئی این پی )ہیومن رائٹس واچ نے افغان طالبان کے دورِ حکومت میں آزادیِ اظہار پر سنگین قدغنوں اور صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم کو بے نقاب کر دیا۔ہیومن رائٹس واچ نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ طالبان نے اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان میں میڈیا کی آزادی کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، طالبان حکومت میں معمولی تنقید پر بھی صحافیوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، قید و تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور بعض صورتوں میں جبری طور پر لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان نے ڈراموں، موسیقی اور خواتین کی آواز کو میڈیا سے مکمل طور پر ختم کر دیا ہے جبکہ خواتین صحافیوں پر امتیازی پابندیاں عائد کر کے انہیں میڈیا سے باہر دھکیلا جا رہا ہے۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق افغانستان میں مرد صحافیوں کی تعداد 4 ہزار سے کم ہو کر 2 ہزار رہ گئی ہے جبکہ خواتین صحافیوں کی تعداد 1400 سے گھٹ کر صرف 600 رہ گئی ہے