ترسیلات زر، برآمدات، درآمدات، محصولات، نان ٹیکس آمدنی میں اضافہ اپریل میں مہنگائی بڑھ کر 2 سے 3 فیصد ہونے کا امکان وزارت خزانہ کی رپورٹ

جولائی تا فروری ترسیلات زر میں 32.5 فیصد اضافہ ، برآمدات میں 7.2 فیصد، درآمدات میں 11.4 فیصد اضا فہ ہوا ہے ،کرنٹ اکائونٹ خسارہ 691 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا
معیشت میں لچک اور استحکام کا تسلسل جاری ، پرائمری سرپلس میں اضافہ اور مالی خسارے میں کمی ہوئی ، رواں مالی سال گندم کی پیداوار 27.9 ملین ٹن رہنے کا امکان  ہے: اکنامک اپ ڈیٹ آئوٹ لک رپورٹ 

اسلام آباد (آئی این پی)وزارت خزانہ نے فروری کے مقابلے مارچ میں مہنگائی میں اضافے کے تخمینے پرنظرثانی کرتے ہوئے رواں ماہ مہنگائی میں کمی کی توقع ظاہرکی ہے تاہم اپریل میں مہنگائی میں اضافیکا خدشہ ظاہر کیا ہے۔وزارت خزانہ نے ماہانہ معاشی آئوٹ لک رپورٹ جاری کردی جس میں مارچ کے لیے مہنگائی کے تخمینے پر نظرثانی کی گئی ہے۔وزارت خزانہ کا کہنا ہے  مارچ میں مہنگائی ایک سے ڈیڑھ فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، اس سے پہلے گزشتہ ماہ کی ماہانہ آٹ لک رپورٹ میں وزارت خزانہ نے مارچ کے لیے مہنگائی کا تخمینہ 3 سے 4 فیصد کے درمیان لگایا تھا، وزارت خزانہ نے پہلے مارچ میں مہنگائی تھوڑی بڑھنیکے امکانات ظاہر کیے تھے۔وزارت خزانہ کی نئی رپورٹ کے مطابق اپریل میں مہنگائی بڑھ کر 2 فیصد سے 3 فیصد کے درمیان رہنیکا خدشہ ہے، ملک میں فروری 2025 میں مہنگائی 1.52 فیصد رکارڈ کی گئی تھی اور جولائی تا فروری کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 5.85 فیصد تھی جبکہ جولائی تا فروری سالانہ بنیادوں پر مہنگائی 28 فیصد سے کم ہوکر 5.9 فیصد پرآگئی۔رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں ترسیلات زر، برآمدات اور درآمدات میں اضافہ ہوا، کرنٹ اکانٹ سرپلس اور بیرونی سرمایہ کاری بڑھ گئی ہے، رواں مالی سال کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا۔رپورٹ کے مطابق جولائی تا فروری ترسیلات زر میں 32.5 فیصد اور برآمدات میں 7.2 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ درآمدات 11.4 فیصد بڑھیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جولائی 2024 سیفروری 2025 کے دوران براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 41 فیصد کا اضافہ ہوا، کرنٹ اکانٹ جولائی تا فروری میں 69 کروڑ 10 لاکھ ڈالر سرپلس رہا۔رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ذخائر 8 ارب 18 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 11 ارب 15 کروڑ ڈالرز ہوگئے اور ایف بی آر محصولات میں جولائی تا فروری25.9 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ رواں مالی سال کے دوران نان ٹیکس آمدنی میں 75.8فیصد کا اضافہ ہوا۔