حکومت پنجاب نے زرعی آمدنی ٹیکس میں اضافہ کردیا

تجارتی بنیادوں پر چلنے والے زرعی شعبے کمرشل فارمز پر کارپوریٹ ٹیکس کے اصول لاگو ہوں گے
ریٹرن فائل نہ کرنے اور ٹیکس کی بروقت ادائیگی نہ کرنے پر جرمانے اور ڈیفالٹ سرچارج میں نمایاں اضافہ

لاہور(حیدر منیر)زرعی آمدنی ٹیکس میں کتنا اضافہ ہوگا ، پبلک نیوز تفصیلات سامنے لے آیاآئندہ بجٹ 2025-26 کے لیے 10.5 ارب روپیکا ہدف مقرر کر دیا گی ، بجٹ دستاویزات  کے مطابق رواں سال کا ہدف گزشتہ سال سے 200 فیصد زیادہ ہے ، بتجارتی بنیادوں پر چلنے والے زرعی شعبے کمرشل فارمز پر کارپوریٹ ٹیکس کے اصول لاگو ہوں گے،زیادہ آمدنی حاصل کرنے والے افراد پر ایک سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے، ریٹرن فائل نہ کرنے اور ٹیکس کی بروقت ادائیگی نہ کرنے پر جرمانے اور ڈیفالٹ سرچارج میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، یہ بڑا قدم صوبائی اسمبلی کے 27 نومبر 2024 کو پاس ہونے والے پنجاب زرعی آمدنی ٹیکس (ترمیمی) ایکٹ 2024 کے تحت اٹھایا گیا، بل کے حوالے سے 6 مارچ 2025 کو قواعد میں بھی اصلاحات نافذ کی گئیں، اصلاحات آئی ایم ایف کے سخت مطالبات کے تحت کی گئی ہیں، اصلاحات کا مقصد صوبائی ٹیکس نظام کو وفاقی ڈھانچے کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے