وفاقی بجٹ 26-2025: قومی اسمبلی میں فنانس بل کی شق وار منظوری کا عمل جاری، اپوزیشن کی ترامیم مسترد

وفاقی بجٹ 26-2025: قومی اسمبلی میں فنانس بل کی شق وار منظوری کا عمل جاری، اپوزیشن کی ترامیم مسترد

قومی اسمبلی میں مالی سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ کی شق وار منظوری کا عمل جاری ہے، جس کی صدارت سپیکر سردار ایاز صادق کر رہے ہیں۔

 اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر اہم حکومتی اراکین بھی موجود ہیں۔

 وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی قیادت
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے فنانس بل کی شق وار منظوری کے لیے تحاریک ایوان میں پیش کیں، جن میں بیشتر حکومتی ترامیم منظور جبکہ اپوزیشن کی ترامیم کثرت رائے سے مسترد کر دی گئیں۔

 کاربن لیوی اور فنانس بل پر اپوزیشن کی مخالفت
اپوزیشن کی جانب سے کاربن لیوی پر شدید تنقید کی گئی، تاہم حکومتی ترامیم منظور کر لی گئیں۔شق نمبر 3 کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر 2.5 فیصد کاربن لیوی کی منظوری دی گئی۔اپوزیشن ارکان عالیہ کامران اور مبین عارف نے عوامی مشاورت کی تجاویز دیں، مگر ان کی ترامیم بھی مسترد کر دی گئیں۔
  سیلز ٹیکس فراڈ سے متعلق سخت ترامیم منظور
فنانس بل 2025 میں سیلز ٹیکس فراڈ سے متعلق سخت اقدامات کی منظوری دی گئی:

جعلی انوائس، تمپرنگ، یا شواہد مٹانے پر گرفتاری کی اجازت۔
ٹیکس گوشواروں میں دانستہ غلط معلومات دینے کو بھی فراڈ تصور کیا جائے گا۔
5 کروڑ یا اس سے زائد کے فراڈ پر ممبر آپریشنز اور لیگل کی منظوری سے گرفتاری ہوگی۔
مجسٹریٹ کے سامنے 24 گھنٹوں میں پیشی لازم قرار دی گئی۔
  کسٹمز ایکٹ 1969 میں ترامیم کی منظوری
شق نمبر 4 میں کسٹمز ایکٹ میں ترامیم کی گئی:

ایوان نے 201 ووٹوں سے ترامیم منظور کیں، جبکہ اپوزیشن کے 57 ووٹ تھے۔
ترامیم کے تحت:

کارگو ٹریکنگ سسٹم متعارف ہوگا۔
ای-بلٹی سسٹم کے ذریعے سامان کی الیکٹرانک نگرانی کی جائے گی۔
سامان کی ترسیل میں مصروف گاڑیاں اس سسٹم سے منسلک ہوں گی۔
  ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں ترمیم
تنخواہوں و مراعات ایکٹ 1975 میں ترمیم کی گئی۔
وزیر خزانہ کی تجویز کے مطابق وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کو بھی ارکانِ پارلیمنٹ کے برابر تنخواہ دی جائے گی۔
ترامیم شق 4A اور 4B کے تحت شامل کی گئیں۔
  کابینہ کی منظوری
اجلاس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں فنانس بل 2025-26 کی باضابطہ منظوری دی گئی۔