قومی اسمبلی میں فنانس بل 2025-26 کی شق وار منظوری کا عمل جاری

قومی اسمبلی میں فنانس بل 2025-26 کی شق وار منظوری کا عمل جاری

اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے، جس میں فنانس بل 2025-26 کی منظوری کا باقاعدہ عمل شروع ہو چکا ہے۔

 اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے فنانس بل کی منظوری کے لیے تحریکیں پیش کیں، جنہیں کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔

بل پر کارروائی کی تفصیل:
اسپیکر کی سربراہی میں بل کی شق وار منظوری کا عمل جاری ہے۔فنانس بل کو عوامی رائے کے لیے بھیجنے اور منظوری ملتوی کرنے سے متعلق اپوزیشن کی ترامیم کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا۔
اپوزیشن کی تجاویز اور موقف:
اراکین اسمبلی مبین عارف اور عالیہ کامران نے بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:"اصل اسٹیک ہولڈر عوام ہیں، ٹیکس بھی وہی ادا کرتے ہیں۔ لہٰذا بل کی منظوری سے قبل عوامی رائے لی جائے۔"عالیہ کامران نے کہا کہ "ٹیکس اصلاحات کے معاملے پر مشاورت ناگزیر ہے۔"تاہم دونوں ارکان کی ترامیم کو بھی دیگر اپوزیشن تجاویز کی طرح کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا۔

حکومتی موقف:
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے فنانس بل کو قائمہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں زیر غور لانے کی تحریک پیش کی، جس پر اپوزیشن نے اعتراض کیا مگر وہ بھی رد کر دیا گیا۔

وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ اجلاس:
اجلاس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے مالی سال 2025-26 کے فنانس بل کی منظوری دے دی تھی، جس کے بعد بل کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔

موجودہ صورتحال:
اسمبلی میں فنانس بل پر شق وار منظوری کا عمل جاری ہے۔
حکومتی اتحادی جماعتوں اور پیپلز پارٹی کی حمایت کے بعد بل کی منظوری تقریباً یقینی سمجھی جا رہی ہے۔
اپوزیشن کی جانب سے شدید مخالفت اور ترامیم کے باوجود حکومت نے اپنی عددی اکثریت سے بل کی منظوری کی راہ ہموار کر لی ہے۔
پس منظر:
فنانس بل 2025 میں:

ٹیکس اصلاحات
سبسڈی میں کمی
تنخواہوں و پنشن میں اضافہ
اور ترقیاتی بجٹ کی نئی ترجیحات شامل ہیں، جن پر سیاسی اور عوامی سطح پر مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے۔
نتیجہ:
قومی اسمبلی میں فنانس بل 2025-26 کی منظوری کا عمل فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اپوزیشن کی ترامیم مسترد ہونے کے بعد اب یہ بل حکومتی موقف کے مطابق ہی منظور ہونے کا امکان ہے، جس سے نئے مالی سال کی مالیاتی حکمت عملی نافذ العمل ہو جائے گی۔