پنجاب بجٹ 2025-26: وزیراعلیٰ مریم نواز نے نئے ٹیکس لگانے کی تجاویز مسترد کر دیں

پنجاب بجٹ 2025-26: وزیراعلیٰ مریم نواز نے نئے ٹیکس لگانے کی تجاویز مسترد کر دیں

لاہور : وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں عوام پر کسی بھی نئے ٹیکس کے نفاذ کو مسترد کر دیا ہے۔

 پنجاب منسٹریل کمیٹی نے بجٹ سے متعلق اہم سفارشات وزیراعلیٰ کو پیش کیں، جن میں سے متعدد ٹیکس تجاویز کو رد کر دیا گیا۔

 مسترد کی گئی تجاویز:
دس مرلے اور اس سے بڑے گھروں پر 2 فیصد اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز۔موٹر وہیکل ٹیکس میں 2 فیصد اضافہ۔کریڈٹ/ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے ریسٹورنٹس، میرج ہال، بیوٹی پارلرز، فیشن ڈیزائنرز وغیرہ پر سیلز ٹیکس 5 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کرنے کی تجویز۔
 وزیراعلیٰ کا واضح مؤقف:
وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہدایت جاری کی کہ:"ہم عوام پر نیا بوجھ نہیں ڈالیں گے، بلکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کریں گے۔ جو ٹیکس کے دائرے سے باہر ہیں، ان کو اس میں شامل کیا جائے گا۔"
منظور شدہ پروسیجرل تبدیلی:
آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت سیلز ٹیکس کی مثبت (positive) لسٹ کو منفی (negative) لسٹ میں تبدیل کرنے کیلئے پروسیجرل تبدیلی کی منظوری دے دی گئی۔یہ تبدیلی پنجاب فنانس بل میں شامل کی جائے گی، تاہم اس سے عوام پر براہ راست نیا ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔
پس منظر:
محکمہ ایکسائز، زراعت، بلدیات اور پنجاب ریونیو اتھارٹی نے یہ تجاویز دی تھیں، مگر وزیراعلیٰ نے عوامی مفاد میں ان تجاویز کو مسترد کیا۔ پنجاب حکومت کی پالیسی واضح طور پر "ٹیکس نہیں، ٹیکس نیٹ میں توسیع" پر مبنی ہے۔

آئندہ بجٹ پیشی:
پنجاب کا بجٹ 13 جون 2025 کو پیش کیا جائے گا، جسے وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ایک "ٹیکس فری اور عوام دوست بجٹ" قرار دیا ہے۔یہ فیصلے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب مہنگائی سے متاثر عوام کو ریلیف کی اشد ضرورت ہے، اور حکومت کی جانب سے ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ عوامی سطح پر مثبت طور پر دیکھا جا رہا ہے۔