انسداد منشیات کا عالمی دن: شعور، احتیاط اور اجتماعی کوششوں کی اپیل

انسداد منشیات کا عالمی دن: شعور، احتیاط اور اجتماعی کوششوں کی اپیل

دنیا بھر میں منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن آج منایا جا رہا ہے۔

 اس دن کا مقصد نشے کے مضر اثرات سے آگاہی فراہم کرنا اور نشہ مخالف شعور اجاگر کرنا ہے تاکہ معاشرے کو اس مہلک لعنت سے پاک کیا جا سکے۔

پنجاب پولیس کی سال 2025 کی کارکردگی:
انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب، ڈاکٹر عثمان انور نے اس موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ "ڈرگ فری پنجاب مشن" کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کا دن منشیات کے مکمل خاتمے اور نوجوان نسل کو اس کے جان لیوا اثرات سے بچانے کے عزم کی تجدید کا دن ہے۔

آئی جی پنجاب نے منشیات فروشوں کے خلاف جاری کارروائیوں کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا:

پولیس کارروائیوں کے اعداد و شمار:
رواں سال پنجاب بھر میں 52,400 سے زائد چھاپے مارے گئے۔
24,000 سے زائد ملزمان گرفتار کیے گئے۔
23,800 سے زائد مقدمات درج کیے گئے۔
برآمدگی میں شامل:

14,325 کلوگرام چرس
1,210 کلوگرام ہیروئن
443 کلوگرام آئس
2,034 کلوگرام افیون
3 لاکھ 98 ہزار 500 لیٹر شراب
آئی جی پنجاب کا مؤقف:
ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا تھا کہ:“پنجاب پولیس نے نشے کے خلاف جاری آپریشنز میں نمایاں تیزی لائی ہے۔ صرف پولیس کی کوشش کافی نہیں، معاشرے کے ہر فرد کو اس جنگ میں شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہوگا۔”انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ:"منشیات کے عادی افراد کی بحالی کیلئے صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے نہیں بلکہ خاندان، تعلیمی ادارے، علماء کرام، میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔"
معاشرتی ذمہ داری کی ضرورت:
ماہرین کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف گرفتاریوں یا برآمدگی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ متاثرہ افراد کی نفسیاتی، طبی اور سماجی بحالی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

عالمی تناظر:
اقوام متحدہ کے ادارے "یو این او ڈی سی" کے مطابق، دنیا بھر میں نشے کے عادی افراد کی تعداد 296 ملین سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں نوجوانوں کا تناسب تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔