اندھے اغوا کی حقیقت بے نقاب، مقتول کی لاش صحن سے برآمد

اندھے اغوا کی حقیقت بے نقاب، مقتول کی لاش صحن سے برآمد

بہاولنگر کے نواحی علاقے میں پیش آنے والے چار ماہ پرانے اندھے اغوا کیس کا ڈراپ سین ایک انتہائی دل دہلا دینے والی حقیقت کے ساتھ سامنے آ گیا، جب مغوی لیاقت نامی شخص کی لاش اسی کے گھر کے صحن سے برآمد ہوئی۔

واقعے کی تفصیلات:
پولیس کے مطابق، لیاقت کو اس کی دوسری بیوی اور سوتیلے بیٹے نے دو ساتھیوں کی مدد سے گلا دبا کر قتل کیا اور لاش کو گھر کے صحن میں دفن کر دیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ:“ابتدائی طور پر یہ ایک اغوا کا کیس لگ رہا تھا، تاہم کئی مہینوں تک کوئی سراغ نہ ملنے پر ہم نے قریبی افراد کو شامل تفتیش کیا۔”
شک کی بنیاد اور گرفتاری:
لیاقت کے بھائی ناصر محمود نے دو ماہ بعد اس کی گمشدگی کی رپورٹ تھانہ بی ڈویژن میں درج کروائی تھی۔تفتیش میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کے باعث ناصر نے لیاقت کی دوسری بیوی اور سوتیلے بیٹے پر شک ظاہر کیا۔شک کی بنیاد پر جب دونوں کو تحقیقات میں شامل کیا گیا تو انہوں نے اقبالِ جرم کرتے ہوئے سارا منصوبہ پولیس کے سامنے رکھ دیا۔
لاش کی برآمدگی اور فرانزک کارروائی:
پولیس اور فرانزک ٹیم نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے گھر کے صحن کی زمین کھود کر لاش نکالی۔جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کیے گئے جنہیں قانونی کارروائی کے لیے محفوظ کر لیا گیا ہے۔لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
مقتول کے بھائی کا موقف:
ناصر محمود کا کہنا تھا کہ:“میرے بھائی کو اس کی بیوی اور سوتیلے بیٹے نے پہلے ہی منصوبے کے تحت بے دردی سے قتل کیا۔ ان لوگوں نے کئی ماہ تک جھوٹ بولا اور ہمیں گمراہ کرتے رہے۔”
پولیس کا مؤقف:
پولیس حکام کے مطابق، ملزمان کے خلاف قتل، سازش اور شواہد چھپانے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

پس منظر:
یہ واقعہ ایک بار پھر خاندانی تنازعات اور جائیداد یا ذاتی دشمنیوں کی بنیاد پر ہونے والے گھریلو جرائم کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں قریبی رشتہ دار ہی قاتل نکلتے ہیں۔