پاکستان عالمی سفارتی محاذ پر ایک اہم پیشرفت کرنے جا رہا ہے کیونکہ وہ اگلے ماہ (جولائی 2025) اقوام متحدہ کی سب سے بااثر ادارے، سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنے والا ہے۔
اس موقع پر پاکستان کے لیے عالمی مسائل پر اپنی رائے مؤثر انداز میں پیش کرنے اور جنوبی ایشیاء کے نقطہ نظر کو اجاگر کرنے کا نادر موقع ہوگا۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اس حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے اہم ملاقات کی جس میں انہوں نے صدارت کے دوران "پروگرام آف ورک" سے آگاہ کیا۔ عاصم افتخار نے اس موقع پر یقین دلایا کہ پاکستان کی صدارت "کھلے، شفاف اور مشاورتی انداز" میں ادا کی جائے گی۔
اہم نکات:
مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے، عاصم افتخار نے کہا کہ عالمی امن و سلامتی کے قیام کے لیے رکن ممالک پُرعزم ہیں۔انہوں نے کثیرالجہتی تعاون (Multilateralism) کی اہمیت پر زور دیا اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنوبی ایشیائی مؤقف کو مزید بھرپور انداز میں عالمی سطح پر اجاگر کرے گا، بالخصوص کشمیر، فلسطین، اسلامو فوبیا اور ترقی پذیر ممالک کے مسائل پر توجہ دینے کا امکان ہے۔
پاکستان کی صدارت کی اہمیت:
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت باری باری ہر ماہ ایک رکن ملک کو دی جاتی ہے، اور یہ صدارت نہ صرف سفارتی وقار کی علامت ہوتی ہے بلکہ اس دوران رکن ملک عالمی ایجنڈے پر اثرانداز ہونے کا موقع بھی حاصل کرتا ہے۔ پاکستان کی آئندہ صدارت بین الاقوامی معاملات میں اس کے کردار کو نمایاں کرے گی، خصوصاً موجودہ عالمی چیلنجز جیسے:
اسرائیل-فلسطین تنازع
یوکرین جنگ
افغان صورتحال
ماحولیاتی تبدیلی
عالمی امن مشنز
سفارتی ماہرین کی رائے:
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی خارجہ پالیسی کو مزید متحرک، مؤثر اور مربوط انداز میں پیش کرنا ہوگا تاکہ ترقی پذیر دنیا کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ خطے کے مسائل کو بھی اجاگر کیا جا سکے۔