نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے آج یکم جولائی 2025 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کونسل کی قیادت کو مؤثر، فعال اور سفارتی انداز میں آگے بڑھائے گا۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کے ساتھ شراکت داری اور باہمی تعاون کا خواہاں ہے، اور سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم سے عالمی امن، استحکام اور انصاف کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔
یہ پاکستان کا آٹھواں دور ہے
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ سلامتی کونسل میں غیر مستقل رکن کی حیثیت سے یہ پاکستان کا آٹھواں دور ہے، جو اس بات کا مظہر ہے کہ عالمی برادری کو پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں اور بین الاقوامی قانون سے وابستگی پر اعتماد ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر، عالمی قوانین اور کثیرالجہتی اصولوں سے مکمل طور پر وابستہ ہے، اور ان کی بنیاد پر ہی وہ عالمی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
عالمی تنازعات پر مؤثر ردعمل ضروری ہے
وزیر خارجہ نے اس امر پر زور دیا کہ دنیا بھر میں تنازعات، کشیدگی اور انسانی بحران مسلسل بڑھ رہے ہیں، جن پر بروقت اور مؤثر سفارتی ردعمل ضروری ہے تاکہ دنیا کو ایک محفوظ اور پرامن مقام بنایا جا سکے۔
اعلیٰ سطح اجلاسوں کی صدارت
اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان جولائی کے دوران سلامتی کونسل کے تحت دو اہم اعلیٰ سطح اجلاسوں کی صدارت کرے گا:
پہلا اجلاس : امن اور تنازعات کے پُرامن حل سے متعلق ہوگا، جس میں دنیا بھر میں جاری تصادموں کے سفارتی حل اور ثالثی کے کردار پر روشنی ڈالی جائے گی۔
دوسرا اجلاس: اقوام متحدہ اور او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) کے مابین تعاون پر مبنی ہوگا، جس میں مسلم دنیا کے مسائل پر مشترکہ اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
پاکستان کا عالمی سفارت کاری میں کردار
یہ صدارت پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی موقع ہے جس کے ذریعے وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر اپنے مؤقف کو پیش کر سکے گا، خاص طور پر کشمیر، فلسطین اور دیگر دیرینہ مسائل پر بین الاقوامی رائے عامہ ہموار کرنے کا موقع ملے گا۔