پاکستان یکم جنوری 2025 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالے گا۔
یہ پاکستان کے لیے آٹھویں بار سلامتی کونسل کی رکنیت ہے، اور رواں برس جولائی میں پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت بھی کرے گا۔پاکستان کے لیے یہ اعزاز اس وقت حاصل ہوا جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 193 ارکان میں سے 182 نے پاکستان کو ایشیا بحرالکاہل کی دو نشستوں میں سے ایک کے لیے منتخب کیا۔ پاکستان اب سلامتی کونسل کی کمیٹی میں داعش اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں پر پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے بھی ایک نشست حاصل کرے گا۔
اگرچہ سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک کو ویٹو پاور حاصل ہوتا ہے، غیر مستقل رکن کے طور پر پاکستان کو بھی بین الاقوامی سطح پر اہم فیصلوں میں شامل ہونے اور اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرنے کا موقع ملے گا۔ پاکستان کی غیر مستقل رکنیت غزہ، افغانستان، شام، اور لبنان کے حالات میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔