اسرائیل ایران پر حملے کے باوجود اپنے تمام اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا، ذرائع ابلاغ سے گفتگو
مظفرآباد (آئی این پی )آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر حملے کے باوجود وہ اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں کیے جا سکے جو جنگ سے قبل طے کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کا ایک مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی تھا جو تاحال ممکن نہیں ہو سکا، جبکہ دیگر مقاصد میں ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا، اس کی جوہری صلاحیت محدود کرنا اور میزائل ذخائر کو تباہ کرنا شامل تھے۔ ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اسرائیل اپنے بعض محدود فوجی اہداف حاصل کرنے میںناکام رہا ہوگا، تاہم مجموعی طور پر وہ غزہ کی صورت حال سے دنیا کی توجہ ہٹانے میں زیادہ کامیاب رہا ہے۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان حالیہ ملاقات غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدور کا دیگر ممالک کے فوجی سربراہان سے براہِ راست ملاقات کرنا ایک غیر معمولی واقعہ ہے اور اس ملاقات نے پاکستان کی سفارتی حیثیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کا مثبت انداز میں ذکر کیا اور مسئلہ کشمیر کو ایک بین الاقوامی تنازع کے طور پر تسلیم کیا، جو بھارت کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ امریکیوںمیں اب یہ احساس بیدار ہورہا ہے کہ اسرائیل کے مفادات کے لیے امریکا کا جنگوں میں الجھنا خود امریکا کے لیے مہنگا سودا بن چکا ہے۔