ایران کا خلائی میدان میں ایک اور قدم، روس نے ناہید-2 سیٹلائٹ خلا میں روانہ کر دیا

ایران کا خلائی میدان میں ایک اور قدم، روس نے ناہید-2 سیٹلائٹ خلا میں روانہ کر دیا

ایران کے خلائی پروگرام نے ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے، جب روس نے ایرانی ساختہ مواصلاتی سیٹلائٹ ’’ناہید-2‘‘ کو کامیابی سے خلا میں بھیج دیا۔

 یہ مشن روس کے ووسٹوچنی کاسمودروم سے ایک سوئیوز راکٹ کے ذریعے مکمل کیا گیا۔

ایرانی انجینئرز کی کامیابی
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق:"ناہید-2" سیٹلائٹ مکمل طور پر ایرانی انجینئرز کی محنت اور ٹیکنیکل مہارت کا نتیجہ ہے۔اس سیٹلائٹ کا وزن تقریباً 110 کلوگرام ہے۔اس مشن کو ایران کی خلائی ٹیکنالوجی میں خود کفالت کی جانب ایک نمایاں قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
مغربی دنیا کی تشویش
ایران کی اس خلائی پیش رفت کو جہاں ملکی سطح پر سراہا جا رہا ہے، وہیں مغربی ممالک خصوصاً امریکا اور یورپی یونین نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔مغربی حکام کے مطابق:ایران کا خلائی پروگرام ممکنہ طور پر بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کی ترقی سے جڑا ہوا ہے۔اس پیش رفت سے خطے میں عسکری توازن بگڑ سکتا ہے۔
سفارتی تناظر
یہ سیٹلائٹ لانچ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب:ایران اور یورپی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے پر مذاکرات ایک بار پھر استنبول میں شروع ہو چکے ہیں۔بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ خلائی سرگرمیاں ایران کی جانب سے سفارتی دباؤ بڑھانے کی ایک حکمتِ عملی بھی ہو سکتی ہیں۔
ماضی کا پس منظر
دسمبر 2024 میں ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اپنی تاریخ کا سب سے بھاری پے لوڈ ملکی ساختہ سیٹلائٹ کیریئر کے ذریعے مدار میں بھیجا۔اس وقت بھی مغربی حلقوں میں ایران کی خلائی سرگرمیوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا۔