ادارہ شماریات پاکستان نے ہفتہ وار مہنگائی کی تازہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح میں 4.07 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سالانہ بنیادوں پر یہ شرح بڑھ کر 2.22 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
24 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کا جائزہ:
رپورٹ کے مطابق:
14 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں
12 اشیاء کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی
25 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا
مہنگی ہونے والی اشیاء:
ٹماٹر: فی کلو قیمت میں 19 روپے کا اضافہ
انڈے: فی درجن 11 روپے سے زائد مہنگے
دہی، دودھ، چاول، دال مسور اور بیف: قیمتوں میں نمایاں اضافہ
گیس چارجز (پہلی سہ ماہی): 590 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کا اضافہ
بجلی چارجز: 1 روپیہ فی یونٹ اضافہ (4.66 سے بڑھ کر 5.66 روپے فی یونٹ)
سستی ہونے والی اشیاء:
زندہ مرغی: 36 روپے فی کلو سستی
چینی: فی کلو 8 روپے کمی
پیاز: قیمت میں کمی
آٹا (20 کلو تھیلا): 17 روپے سے زائد سستا
ایل پی جی گھریلو سلنڈر: قیمت میں کمی
آلو، دال مونگ، دال چنا، اور کیلے: سستی اشیاء میں شامل
معاشی ماہرین کی رائے:
اقتصادی ماہرین کے مطابق گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کے اثرات اگلے ہفتوں میں دیگر اشیاء کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ریلیف کے دعوؤں کے باوجود عوام کو مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
نتیجہ:
مہنگائی کی یہ ہفتہ وار رپورٹ بتاتی ہے کہ جہاں کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، وہیں ضروری اشیاء کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو عام آدمی کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔