امریکا نے ایک بار پھر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی لازوال قربانیوں کا باضابطہ اعتراف کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یہ پیشرفت وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کے امریکی ہم منصب مارکو روبیوس کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔
دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر بات چیت
ملاقات میں اسحاق ڈار نے پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی و سیکیورٹی تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے پاک-بھارت کشیدگی کے تناظر میں امریکی صدر کے مثبت کردار کی بھی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ امریکا مستقبل میں بھی جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے کردار ادا کرتا رہے گا۔
اٹلانٹک کونسل سے خطاب: پی ٹی آئی اور دہشتگردی کے بارے میں گفتگو
اس سے قبل امریکی تھنک ٹینک "اٹلانٹک کونسل" میں گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا:بانی پی ٹی آئی سیاست میں آنے سے قبل چندہ اکٹھا کرنے کے لیے ان کے پاس آتے تھے۔2014 کے 126 دن کے دھرنے نے پاکستان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ "اگر کوئی پاپولر لیڈر ہے تو اسے یہ حق نہیں کہ سکیورٹی تنصیبات پر حملہ کرے۔"
دہشتگردی کے خلاف حکومتی اقدامات پر مؤقف
اسحاق ڈار نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے اقدامات کو دہشتگردی کے خلاف مؤثر قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ:بعد میں آنے والی حکومت نے کالعدم ٹی ٹی پی کے لیے سرحدیں کھولیں۔100 سے زائد مجرموں کو رہا کیا گیا۔اس پالیسی کے نتیجے میں 30 سے 40 ہزار طالبان دوبارہ پاکستان میں داخل ہو کر فعال ہو گئے۔انہوں نے ان فیصلوں کو "انتہائی افسوسناک" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے ملکی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہوئے۔