تہذیب کی نفی یا ضمیر کا قتل؟

ساجد علی شمس

اسلام آباد، وہ شہر جسے ملک کا فکری، سیاسی، اور تہذیبی مرکز سمجھا جاتا ہے، ایک ایسا شرمناک واقعہ اپنے دامن میں لیے کھڑا ہے جس نے نہ صرف اس کے شہریوں کے اعتماد کو مجروح کیا بلکہ اخلاقی زوال کی گہرائیوں کو بھی بینقاب کر دیا۔
حال ہی میں وفاقی دارالحکومت میں گدھوں کے گوشت کی بڑی مقدار برآمد ہونے کی خبر ایک ایسا دھماکہ خیز انکشاف ہے، جسے صرف "جرم" کہنا اس کی سنگینی کو کم کرنا ہوگا۔ یہ ایک اجتماعی اخلاقی زوال کا مظہر ہے، ایک ایسا عمل جو قانون، مذہب، تہذیب، اور ضمیر، ہر پیمانے کو روند کر گزرا ہے۔یہ کوئی عام جرم نہیں کہ کسی قصائی نے دھوکے سے کوئی نامناسب گوشت بیچ دیا ہو، بلکہ یہ ایک باقاعدہ منظم سازش تھی جس میں انسانی صحت، مذہبی اقدار اور قانونی اصولوں کو یکسر نظرانداز کر کے پیسے کے دیوتا کے سامنے سجدہ کیا گیا۔اسلامی شریعت کے مطابق گدھے کا گوشت حرام ہے، اور اس کا استعمال ایک ناقابلِ معافی عمل ہے۔ لیکن معاملہ صرف مذہبی احکام کی خلاف ورزی تک محدود نہیں؛ یہ انسانی وقار اور شہری شعور کی ہتک بھی ہے۔ شہریوں کو نہ صرف دھوکہ دیا گیا، بلکہ ان کی صحت کے ساتھ سنگین کھلواڑ کیا گیا۔اسلام آباد جیسے منظم، تعلیم یافتہ اور بظاہر باشعور شہر میں اس قبیح فعل کا رونما ہونا نہایت تشویشناک ہے۔ یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ کیا ہمارے ادارے، ہماری نگرانی کی مشینری، اور ہماری سماجی حساسیت اس حد تک مفلوج ہو چکی ہے کہ گدھوں کے گوشت کی ترسیل، ذبح، اور تقسیم کا پورا جال ہمارے علم کے بغیر پروان چڑھتا رہا؟ کیا ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے، جو معمولی چالان کے لیے شہریوں کو سڑکوں پر روک لیتے ہیں، اس بڑے جرم کو نہ دیکھ سکے یا جان بوجھ کر نظرانداز کرتے رہے؟ کیا ہمارے فوڈ کنٹرول، صحت عامہ، اور بلدیاتی ادارے صرف میز پر فائلیں پلٹنے کے لیے رہ گئے ہیں؟ یا ان میں بھی کچھ ایسے عناصر شامل ہو چکے ہیں جو اس مکروہ دھندے میں حصہ دار ہیں؟ اس واقعے نے شہریوں کو شدید ذہنی و جذباتی دھچکا پہنچایا ہے۔ جن ماؤں نے بچوں کے لیے گوشت خریدا، جن ہوٹلوں نے اسے چٹخارے دار سالن کے طور پر پیش کیا، اور جن گھروں میں اسے کھانے کے بعد رب کا شکر ادا کیا گیا، وہ سب اب پچھتاوے، گھن اور بییقینی کا شکار ہیں۔لیکن اب صرف پچھتاوے سے کام نہیں چلے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ:

اس جرم کے تمام کرداروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے، چاہے وہ تاجر ہوں، سرکاری افسر، یا پشت پناہی کرنے والے بااثر عناصر؛
شہریوں میں خوراک سے متعلق آگہی پیدا کی جائے، تاکہ وہ سوال کریں، مشکوک گوشت کی نشاندہی کریں، اور غیر تصدیق شدہ مصنوعات سے بچیں؛
حکومت فوری طور پر ایسے جرائم کے خلاف الگ اور مؤثر عدالتی نظام بنائے، جس میں فیصلہ ہفتوں میں ہو، سالوں میں نہیں؛
مذہبی و سماجی قیادت عوام کو یہ باور کروائے کہ حلال و حرام کے معاملات صرف فقہی نہیں بلکہ قومی غیرت کے مسائل ہیں۔
یہ سانحہ ہمیں ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ اگر ضمیر مر جائے، تو قانون صرف کاغذ بن کر رہ جاتا ہے، اور معاشرہ جانوروں کے ریوڑ میں بدل جاتا ہے، وہ ریوڑ جسے نہ حلال کی پرواہ ہوتی ہے، نہ حرام کا شعور۔

اسلام آباد کے شہریوں کو اب بیدار ہونا ہوگا۔ یہ ان کے اعتماد، ان کے جسم، اور ان کی آئندہ نسلوں کا مسئلہ ہے۔ یہ وقت صرف مذمت کا نہیں، مزاحمت کا ہے۔ اب اگر ہم خاموش رہے، تو کل کو شاید صرف گدھوں کا نہیں، انسانوں کا گوشت بھی ہمارے دسترخوان پر ہو، اور ہمیں احساس تک نہ ہو۔۔۔