امریکہ،طاقت،تہذیب اورمزاحمت کاتاریخی المیہ

سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
آج نیولبرل عالمگیریت پرسخت تنقیدکرتیہوئے کہاجارہاہے کہ صنعتیں کم اجرت والے ممالک منتقل ہوئیں،مزدوروں کی سودے بازی کی طاقت کم ہوئی، عوامی خدمات نجکاری کا شکار ہوئیں،جبکہ بڑی کارپوریشنوں اورمالیاتی اشرافیہ کیلئے سرمایہ دنیابھرمیں بے روک گردش کرنے لگا۔اس مسئلے کوصرف سرمایہ دارانہ یااشتراکی نعروں میں قیدکرنادانش مندی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ معیشت کس کیلئے ہے؟اگرمجموعی قومی پیداواربڑھے مگرزندگی غیرمحفوظ ہو؛ حصص بازاربلند ہومگرخاندان مکان خریدنے سے عاجز ہوں؛ٹیکنالوجی بے مثال ترقی کرے مگرلاکھوں انسان اپنے مستقبل سے خوف زدہ ہوں؛چندافرادکی دولت بعض ریاستوں کی معیشت کے برابرپہنچ جائے مگرلاکھوں مزدوردونوکریاں کرکے بھی بنیادی ضروریات پوری نہ کرسکیںتواعدادترقی کی خبردے سکتے ہیں،معاشرہ نہیں۔
اسلامی تہذیبی شعورنے معاشی زندگی کیلئے جس میزان کاتصوردیا،اس کاجوہربھی یہی تھاکہ ملکیت ہومگرذمہ داری کے بغیرنہیں؛ تجارت ہومگرظلم کے ساتھ نہیں؛دولت ہومگرگردش چند ہاتھوں میں مقیدنہ ہو۔یاد رہے کہ معاشرے صرف دولت سے نہیں چلتے،عدل کے احساس سے چلتے ہیں۔
یہاں سیاسی بحث ایک نہایت اہم موڑ لیتی ہے۔کسی بھی معاشرے میں عوامیت پسندرہنماخلاسے نازل نہیں ہوتے۔وہ ایک پہلے سے موجود زخم پرانگلی رکھتے ہیں۔کبھی علاج کرتے ہیں،کبھی زخم کواقتدارکی سیڑھی بنالیتے ہیں۔ٹرمپ ایک شخص سے بڑھ کرایک علامت بن چکاہے۔ٹرمپ کے عروج کوحادثہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں کی معاشی،سیاسی اورتہذیبی بے اطمینانی کانتیجہ قراردیاجارہاہے۔اسی کے ساتھ یہ اشارہ بھی ملتاہے کہ ایسے عوامیت پسندرجحانات صرف امریکا تک محدودنہیں بلکہ مختلف معاشروں میں مختلف صورتوں سے سامنے آسکتے ہیں۔اس نکتے کوٹرمپ کے حق یا مخالفت کے سادہ خانوں میں رکھ دینا مسئلے کوچھوٹا کر دے گا۔اصل سوال یہ ہے کہ کروڑوں انسان اس نظام سے اس قدر ناراض کیوں ہوئے جس نے کبھی انہیں دنیاکاسب سے پراعتمادمتوسط طبقہ بنایاتھا؟ کیوں سیاسی مرکزکمزور ہوا؟کیوں مہذب مکالمے کی جگہ تحقیر،طعنہ، سازشی بیانیے اورغصے نے لے لی؟
جب روایتی سیاسی جماعتیں لوگوں کویہ باورکرانے لگیں کہ نظام بنیادی طورپرٹھیک ہے،حالانکہ لوگوں کی روزمرہ زندگی چیخ چیخ کراس کے برعکس گواہی دے رہی ہو،تب سیاست میں وہ شخص کامیاب ہوسکتاہے جومیزالٹ دینے کاوعدہ کریخواہ اس کے بعد کمرے کاکیا حال ہو۔یہی عوامیت پسندی کاالمیہ ہے۔ وہ اکثرصحیح دردپہچانتی ہے اورغلط دوادیتی ہے۔
آج سیاہ فام امریکی تاریخ کاایک نامکمل حساب کی طرح نمایاں انتباہ کی شکل اختیارکرچکے ہیں اور اسے امریکی تاریخ کے طویل پس منظرکیبغیرسمجھناممکن نہیں۔افریقی نژادامریکی تجربہ دراصل امریکی جمہوری وعدے کاسب سے کڑاامتحان رہا ہے۔ایک ایسی ریاست جس نیاپنے اعلانِ آزادی میں انسانی مساوات  کادعوی کیا،اسی سرزمین پرنسلوں تک غلامی بھی قائم رہی۔خانہ جنگی نے غلامی کا قانونی دروازہ بندکیامگرنسلی امتیازکی تاریخ وہیں ختم نہ ہوئی۔تعمیرِنو کے مختصردورکے بعد’’جم کرو‘‘قوانین،سیاسی محرومی،لنچنگ، رہائشی تفریق ،معاشی عدم مساوات اورادارہ جاتی امتیازنے آزادی کی قانونی عبارت اورزندگی کی عملی حقیقت کے درمیان ایک طویل فاصلہ قائم رکھا۔
بیسویں صدی کی شہری حقوق کی تحریک اسی فاصلے کوکم کرنے کی کوشش تھی۔مارٹن لوتھرکنگ جونیئر،روزاپارکس،میلکم ایکس اوربے شمارگمنام مردوزن نے امریکاسے کوئی رعایت نہیں مانگی تھی؛انہوں نے امریکاسے اس کے اپنے آئینی وعدے کی وفاداری مانگی تھی۔یہ فرق نہایت اہم ہے۔آج اس امرپرگہری تشویش ظاہر کی جارہی ہے کہ افریقی امریکیوں نے جن حقوق کیلئے جسم وجان کی قیمت ادا کی،ان میں سے بعض کامیابیاں کمزورہورہی ہیں،جبکہ معاشرتی کنٹرول میں خوف،قیداورسخت پولیسنگ کاکرداربڑھ سکتاہے۔اس نکتے کوکسی ایک جماعت،صدریاانتخاب تک محدودکرناتاریخی سطحیت ہوگی۔
سیاہ فام امریکی تجربہ ہمیں یہ سمجھاتاہے کہ قانونی فتح اورسماجی فتح ایک چیز نہیں ہوتیں۔ایک قانون امتیازممنوع قراردے سکتاہے، مگرصدیوں کی معاشی اورسماجی ناہمواری فرمان سے تحلیل نہیں ہوتی۔ووٹ کاحق مل سکتاہے، مگراگردولت،تعلیم،رہائش،صحت اور عدالتی نظام میں گہری خلیج برقراررہے تو مساوات کاسفر مکمل نہیں ہوتا۔اورشایدیہی وجہ ہے کہ شہری آزادیوں کو کبھی حاصل شدہ سرمایہ سمجھ کرمحفوظ نہیں رکھاجاسکتا۔ہرنسل کوآزادی کے قلعے کی نگہبانی خودکرناپڑتی ہے۔
بیسویں صدی کااختتام ایک عجیب خوداعتمادی کے ساتھ ہواتھا۔سوویت یونین تحلیل ہوا،امریکاواحدعالمی سپرپاوربنااورایک مختصرمدت کیلئے ایسامحسوس ہواکہ تاریخ نے شاید اپنا آخری سیاسی فیصلہ سنادیاہے۔لیکن تاریخ کبھی اختتام کا اعلان قبول نہیں کرتی۔اب کثیرقطبی دنیا اورامریکاکے بعد کاسوال گونج رہاہے۔ چین کا معاشی عروج،ایشیاکے بڑھتے ہوئے مراکزِثقل،روس کی عالمی سیاست میں واپسی،ترکی، پاکستان،برازیل اوردیگردرمیانی طاقتوں کی خودمختارخارجہ پالیسیوں کی خواہش،اورعالمی جنوب کی بڑھتی ہوئی سیاسی آوازنے اس دنیاکوکہیں زیادہ پیچیدہ بنادیاہے۔اب یہ حقیقت ساف نظرآرہی ہے کہ امریکی غلبے کی جگہ یاتوچین زیادہ بڑاکردارادا کرے گایادنیا حقیقی کثیرقطبی نظام کی طرف جائے گی۔
لیکن یہاں ایک غلط فہمی سے بچنا ضروری ہے۔امریکاکی نسبتی کمزوری کامطلب لازماچین کی مکمل بالادستی نہیں۔تاریخ میں طاقت کا انتقال ہمیشہ تاج ایک بادشاہ  کے سرسے اتار کر دوسرے کے سرپررکھنے جیسانہیں ہوتا۔کبھی پورادرباربدل جاتاہے۔ممکن ہے اکیسویں صدی کسی واحدسلطنت کی صدی نہ ہوبلکہ متعدد طاقتوں،علاقائی اتحادوں،بڑی کارپوریشنو ں ،مالیاتی نیٹ ورکس،ٹیکنالوجی کمپنیوں اور غیرریاستی قوتوں کی ایک ایسی پیچیدہ بساط بن جائے جہاں اقتدار کسی ایک دارالحکومت میں مرتکزنہ رہے۔ایسی دنیازیادہ منصفانہ بھی ہو سکتی ہے، اورزیادہ خطرناک بھی۔کیونکہ ایک طاقت کی اجارہ داری کاخاتمہ آزادی کی ضمانت نہیں؛کبھی وہ متعدد طاقتوں کی مسابقت کاآغازہوتاہے۔
جدیدیت نے انسان کوبے شمارسہولتیں دیں،مگرہرترقی کی اپنی نفسیاتی قیمت بھی ہوتی ہے۔قدیم معاشرے ناقص تھے،مگرانسان کوتعلق دیتے تھے: خاندان،محلہ،مذہب، پیشہ، روایت،زبان اورمقام۔جدیدسرمایہ دارانہ شہرنے انسان کوآزادی تودی،مگرکئی مرتبہ وہ آزادی تنہائی کی قیمت پرملی۔جب کارخانہ بندہوتاہے توصرف نوکری نہیں جاتی،ایک پورا مقامی تمدن مرجاتاہے۔جب گاں سے شہرکی طرف نقل مکانی ہوتی ہے توصرف مکان نہیں بدلتا، یادداشت کاجغرافیہ بدل جاتاہے۔جب بازارانسان کوہرلمحہ یہ بتائے وہ اس کی قدر اس کی خریداری،ظاہری کامیابی اورمعاشی پیداوارسے ہے،تووہ شخص جواس دوڑمیں پیچھے رہ جائے اپنے آپ کوناکام نہیں،بے معنی محسوس کرنے لگتاہے۔یہیں سے شناخت کی سیاست طاقت حاصل کرتی ہے۔
انسان جب مستقبل سے محروم ہوتوماضی کومقدس بنا لیتا ہے۔وہ کسیسنہری دورکی طرف لوٹناچاہتاہیخواہ وہ سنہرادورکبھی حقیقت میں موجودہی نہ رہاہو۔قوم پرستی،مذہبی انتہاپسندی، نسلی برتری،مہاجردشمنی اورمختلف قسم کی شدت پسندتحریکوں کوصرف جہالت کہہ کرردکردیناکافی نہیں۔ان کے اندر ایک زخمی نفسیات،بے دخلی،محرومی اورشناخت کے بحران کوبھی سمجھناہوگا۔ سمجھنا،البتہ جوازفراہم کرنانہیں۔ظلم مظلوم کے ہاتھ سے ہوتوبھی ظلم رہتا ہے ۔(جاری ہے)