سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
زیرِنظرمضمون کانقط آغازایک امریکی پروفیسرکی وہ طویل تقریرہے جس میں امریکی طاقت،سرمایہ دارانہ نظام،عسکری مداخلت، سماجی عدم مساوات،نسلی انصاف اورعالمی سیاست کے مستقبل کے بارے میں نہایت سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔تاہم یہاں پیش کیا جانے والا تجزیہ نہ اس تقریرکاترجمہ ہے،نہ اس کے مقررکی ہررائے کی توثیق؛یہ ان سوالات کوتاریخ کے آئینے میں دیکھنے،ان کے سیاسی مضمرات کوپرکھنے اورعصرِحاضرکی عالمی بساط پران کے معنی تلاش کرنے کی ہماری اپنی کوشش ہے۔
تاریخ کی کتاب کاایک عجیب دستورہے:وہ سلطنتوں کوان کے عروج کے زمانے میں ان کے انجام کی خبرنہیں دیتی،مگرزوال شروع ہو جائے تواس کے آثار دیواروں پرلکھی تحریرکی طرح نمایاں ہونے لگتے ہیں۔تخت قائم رہتاہے،پرہیبت رخصت ہونے لگتی ہے؛لشکرموجود رہتے ہیں،مگران کے قدموں کی دھمک سے زیادہ ان کے اخراجات کاشورسنائی دینے لگتاہے؛سکے پربادشاہ کی تصویربدستورقائم رہتی ہے،مگرمنڈی اس کی قوت پرسوال اٹھانے لگتی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں سلطنت کے سامنے سب سے بڑادشمن بیرونی لشکرنہیں بلکہ اپنی عظمت کے بار ے میں اس کااپنا یقین بن جاتاہے۔
امریکاکامسئلہ محض چندغلط پالیسیوں،ایک صدر،ایک سیاسی جماعت یاکسی ایک جنگ کا مسئلہ نہیں؛معاملہ کہیں زیادہ گہراہے۔امریکی معیشت کے اندرونی ضعف،صنعتی زوال، مالیاتی خساروں،وسیع فوجی ڈھانچے اورکارپوریٹ اقتدارکوایک ہی بحران کے مختلف رخ قرار دیاگیاہے۔یہ اندیشہ بھی ظاہرکیاگیاہے کہ عالمی مالیاتی نظام میں ڈالرکی خصوصی حیثیت کمزورپڑنے کی صورت میں امریکی فوجی و مالیاتی طاقت پرکہیں زیادہ شدیددباؤآسکتاہے۔
یہاں تاریخ فوراًہمارے سامنے روم،ایتھنز،عثمانیوں،ہسپانویوں،برطانویوں اورسوویت روس کی تصویریں لاکھڑی کرتی ہے۔سلطنتوں کا زوال ایک ہی قالب میں نہیں ڈھلتا، مگر اس کے کچھ قرینے بارباردہرائے جاتے ہیں۔پہلے دولت طاقت پیداکرتی ہے؛پھرطاقت اپنے تحفظ کیلئے لشکرمانگتی ہے؛پھرلشکراڈے مانگتے ہیں؛اڈے جنگیں پیداکرتے ہیں؛ جنگیں قرض مانگتی ہیں؛اورایک دن وہ قرض اسی دولت کی جڑکھانے لگتاہے جس نے ابتدامیں سلطنت کوطاقت دی تھی۔ گویا قوت کادرخت اپنی ہی چھاں کی بوجھ سے خم کھانے لگتا ہے۔
سلطنت کے زوال کی سب سے نازک علامت یہ نہیں کہ وہ جنگ ہارجائے،بلکہ یہ ہے کہ وہ جنگ کومسئلے کے حل کاپہلا ذریعہ سمجھنے لگے۔ابھرتی ہوئی طاقت عموماًجانتی ہے کہ تلوار کب نیام سے نکالنی ہے؛زوال پذیرطاقت اس گمان میں مبتلاہوجاتی ہے کہ ہربنددروازہ توپ سے کھولاجاسکتاہے۔یہی وہ کیفیت ہے جسے بعض مورخین نے ’’مائیکروملٹری ازم‘‘ سے تعبیرکیاہے:یعنی اپنی گھٹتی ہوئی سیاسی قوت کی تلافی کیلئے حدسے بڑھی ہوئی فوجی مہم جوئی۔
تاریخ عراق اورافغانستان کواسی زاویے سے دیکھتی ہے اوراس کاتقابل قدیم ایتھنزکی تباہ کن فوجی مہمات اور1956کے بحرانِ سویز سے کرتی ہے۔زوال پذیرسلطنتیں اکثراس مغالطے میں مبتلاہوتی ہیں کہ ایک برق رفتارفوجی کامیابی ان کاکھویاہواوقاربحال کردے گی، مگرغیرمتوقع اخراجات اورسیاسی شکست الٹازوال کی رفتاربڑھادیتے ہیں۔یہ نکتہ محض امریکاتک محدودنہیں تاریخ میں جب بھی حکمران طبقے نے سفارت کاری کوکمزوری اورجنگ کومردانگی سمجھ لیا،ریاست نیاپنیدشمنوں سے پہلے اپنے امکان کوزخمی کیا۔
نہرِسویزپربرطانیہ کیلئے شکست صرف ایک فوجی یاسفارتی ناکامی نہ تھی؛وہ ایک نفسیاتی لمحہ تھا۔لندن کومعلوم ہواکہ وہ نقشے پراب بھی عظیم سلطنت دکھائی دیتاہے،مگردنیاکی سیاسی حقیقت بدل چکی ہے۔اسی طرح سوویت یونین کےآخری عشروں میں فوجی طاقت کا حجم اس کے معاشی وسماجی زوال کوچھپانہ سکا۔ بندوق کبھی کبھی سرحدکی حفاظت کرسکتی ہے،لیکن معیشت کی خستگی،اداروں کی بے اعتباری اورقوم کی بے امیدی پرپہرہ نہیں دے سکتی۔
یہی وہ سبق ہے جسے طاقتورریاستیں اکثرسب سے آخرمیں سمجھتی ہیں۔سلطنت صرف توپ سے نہیں، تصورسے بھی قائم رہتی ہے۔ہر بڑی سلطنت کے پاس محض جنگی جہازنہیں ہوتے،ایک داستان بھی ہوتی ہے۔روم اپنے ساتھ قانون کاتصورلے کرچلتاتھا۔برطانیہ نے اپنی حکمرانی کوتہذیب،پارلیمان،تعلیم،بحری قوت اورانتظامی برتری کے لبادے میں پیش کیا۔امریکانے دوسری عالمی جنگ کے بعدآزادی، جمہوریت،انسانی حقوق،خوشحالی،جدیدیت،ہالی ووڈ،جامعات، ٹیکنالوجی اورامریکی خواب سے ایک ایسی نرم قوت پیداکی جس نے کئی دہائیوں تک توپ وتفنگ سے زیادہ کام کیا۔
لیکن سلطنت کااصل بحران تب پیداہوتاہے جب اس کی کہانی اوراس کاعمل ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں۔ایک طرف انسانی حقوق کی تعلیم،دوسری طرف ابوغریب؛ایک طرف قانون کی حکمرانی،دوسری طرف ایسی جنگیں جن کی قانونی واخلاقی بنیادپردنیاسوال اٹھائے؛ ایک طرف آزادی کاپیغام،دوسری طرف ڈرون،خفیہ حراستی مراکزاورحکومتیں تبدیل کرنے کی تاریخ یہ تضادات رفتہ رفتہ اس اخلاقی سرمائے کوکھاجاتے ہیں جس پرنرم طاقت استوارہوتی ہے۔
تقریراسی تضادکوابوغریب،مشرقِ وسطی کی جنگوں اوروسیع انسانی تباہی کے تناظرمیں بیان کرتی ہے اوراستدلال کرتی ہے کہ بیرونِ ملک دکھائی جانیوالی سختی آخرکاراندرونِ ملک سیاسی اورسماجی سختی سیالگ نہیں رہتی۔یہاں ایک قدیم حقیقت پھرسامنے آتی ہے۔اقتدارجب اپنی اخلاقی دلیل کھودے تواسے اپنے وجودکیلئے زیادہ قوت استعمال کرناپڑتی ہے۔ جس سلطنت کوکل لوگ قابلِ رشک سمجھتے تھے،آج اگروہ صرف قابلِ خوف رہ جائے توزوال شروع ہوچکاہوتاہے۔
جنگ کاخرچ صرف خزانہ نہیں دیتا،معاشرہ بھی دیتاہے۔جنگ کے اخراجات بجٹ میں لکھے جاسکتے ہیں،مگراس کے تمام قرض حساب کی کتاب میں نہیں آتے ۔ ایک طیارے، میزائل یافوجی اڈے کی قیمت معلوم کی جاسکتی ہے،لیکن کسی قوم کی ترجیحات کیبگاڑکی قیمت کون لگائے؟اگربیرونی محاذوں پرکھربوں صرف ہوں اوراندرشہروں کی سڑکیں شکستہ ، اسکول کمزور،علاج مہنگا،مزدوربے یقینی میں اورمتوسط طبقہ قرض میں ڈوباہوتوریاست کے اندرایک خاموش اخلاقی سوال جنم لیتاہے:ہم دنیاکوسنوارنے نکلے تھے،مگراپناگھرکس کے سپرد کرآئے؟یہ سوال امریکاتک محدودنہیں۔تاریخ کی ہربڑی طاقت کوکسی نہ کسی مرحلے پراس سے دوچارہوناپڑاہے۔
سلطنت کے پھیلااورمالی استعدادکے درمیان جب فاصلہ بڑھنے لگتاہے توبظاہرعظیم ڈھانچہ اندرسے کھوکھلاہونے لگتاہے۔موجودہ امریکی حالات اسی خطرے کومالیاتی کمزوری اورعالمی ریزروکرنسی کی حیثیت سے جوڑتی اورخبردارکرتی ہے کہ شدیدمعاشی بحران سیاسی انتہاپسندی اورجارح قوم پرستی کیلئے زمین ہموارکرسکتاہے۔یہ تاریخ کاپراناالمیہ ہے۔ بھوکا معاشرہ فلسفے سے زیادہ نعرہ سنتاہے۔ خوف زدہ طبقہ پیچیدہ مسئلے کے پیچیدہ جواب سے گھبراتاہے اورکسی ایسے شخص کی تلاش کرتاہے جواسے ایک دشمن،ایک نعرہ اورایک آسان علاج دے دے۔وہ دشمن کبھی مہاجرہوتاہے،کبھی اقلیت،کبھی بیرونی ملک،کبھی دانشور ، کبھی صحافی،کبھی مذہب اور کبھی غداراشرافیہ،یوں معاشی بحران سیاسی تخیل کوتنگ کردیتاہے۔
جدید مغرب کی ایک عظیم تاریخی کامیابی یہ تھی کہ اس نے سرمایہ داری کوبے لگام رہنے کی بجائے قانون،مزدورحقوق،فلاحی ریاست ، ترقی پسند ٹیکس،آزاد اداروں اورسیاسی جواب دہی سے باندھنے کی کوشش کی۔بیسویں صدی کے بڑے حصے میں یہی سمجھ غالب رہی کہ بازارایک طاقتورخادم ضرورہے،مگراسے آقابنادینامعاشرے کومنڈی میں تبدیل کرسکتا ہے۔پھرایک زمانہ آیاجب کہاگیا کہ بازار خودعقل مندہے؛ریاست جتناپیچھے ہٹے گی،خوشحالی اتنی بڑھے گی؛ سرحدیں سرمایہ کیلئے کھلیں گی تودولت نیچے تک بہے گی؛ صنعت جہاں سستی ہوگی وہاں جائے گی اوربالآخردنیاایک عظیم متوسط طبقے میں بدل جائے گی۔ خواب دلکش تھالیکن ہرخواب کی طرح اس کابھی ایک بیداری کالمحہ تھا۔(جاری ہے)