طالبان حکومت میں افغانستان کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی، سابق وزیر خزانہ کا انکشاف

 افغانستان میں سرمایہ کاری کے لیے نہ تو کوئی واضح قانونی فریم ورک موجود ہے اور نہ ہی ریاستی ادارے آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں
کابل(آ ئی این پی )افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کی معیشت شدید بحران کا شکار ہو چکی اور ماہرین مستقبل کو مزید تاریک قرار دے رہے ہیں۔سابق افغان وزیر خزانہ انوار الحق احدی نے افغانستان انٹرنیشنل کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں طالبان حکومت کے معاشی ترقی سے متعلق دعوئوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔انوار الحق احدی کے مطابق افغانستان میں سرمایہ کاری کے لیے نہ تو کوئی واضح قانونی فریم ورک موجود ہے اور نہ ہی ریاستی ادارے آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اہم اداروں پر طالبان حمایت یافتہ افراد کی اجارہ داری ہے جس کے باعث سرمایہ کار عدم تحفظ کا شکار ہیں۔سابق وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ ملک میں سرمایہ کاروں کے لئے نامناسب سیکیورٹی دستیاب ہے اور نہ ہی تربیت یافتہ انسانی وسائل موجود ہیں، جس کے باعث سرمایہ کاری کے مواقع تقریبا ختم ہو چکے ہیں