یہ خبر برطانوی تھنک ٹینک کے ایک اہم جائزے کی عکاسی کرتی ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ملک میں 80 لاکھ وائٹ کالر ملازمتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ فار پبلک پالیسی ریسرچ کے مطابق، اگر اس انحصار کو کم نہ کیا گیا، تو مستقبل میں بہت سے معیاری اور کم تنخواہ والے دفتری اور پیشہ ورانہ ملازمتیں ختم یا کم ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ AI کی وجہ سے کم سے کم تنخواہ والی ملازمتوں کا قدر کم ہو جائے گا، یا وہ مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہیں، جن میں بنیادی سطح کی مہارت اور کم فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری جانب، ایسی ملازمتیں جن میں اعلیٰ درجے کی فیصلہ سازی اور مہارت درکار ہوتی ہے، فی الحال محفوظ ہیں۔یہ صورتحال مستقبل میں نوکریوں کے تحفظ اور تعلیم و تربیت کے نظام کے لیے ایک چیلنج بھی ہے، کیونکہ معاشرہ اور حکومتی ادارے ان تبدیلیوں کے مطابق اپنی حکمت عملی تیار کریں۔ یہ خبر برطانوی تھنک ٹینک کے ایک اہم جائزے کی عکاسی کرتی ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ملک میں 80 لاکھ وائٹ کالر ملازمتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ فار پبلک پالیسی ریسرچ کے مطابق، اگر اس انحصار کو کم نہ کیا گیا، تو مستقبل میں بہت سے معیاری اور کم تنخواہ والے دفتری اور پیشہ ورانہ ملازمتیں ختم یا کم ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ AI کی وجہ سے کم سے کم تنخواہ والی ملازمتوں کا قدر کم ہو جائے گا، یا وہ مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہیں، جن میں بنیادی سطح کی مہارت اور کم فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری جانب، ایسی ملازمتیں جن میں اعلیٰ درجے کی فیصلہ سازی اور مہارت درکار ہوتی ہے، فی الحال محفوظ ہیں۔یہ صورتحال مستقبل میں نوکریوں کے تحفظ اور تعلیم و تربیت کے نظام کے لیے ایک چیلنج بھی ہے، کیونکہ معاشرہ اور حکومتی ادارے ان تبدیلیوں کے مطابق اپنی حکمت عملی تیار کریں۔