پاکستان کی ڈیجیٹل کمپنی جاز نے مصنوعی ذہانت (AI) کو استعمال کرتے ہوئے صارفین کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد انشورنس اور مالی خدمات کی پیشکش کا آغاز کیا ہے۔
یہ نئی سروس "فکر فری" نامی انشورنس پلیٹ فارم کے ذریعے متعارف کرائی گئی ہے، جو صارفین کے موبائل فون کے استعمال، سفری عادات، اور اخراجات کے رجحانات کا تجزیہ کرتا ہے۔ اس کے ذریعے جاز کے صارفین کو ان کے روزمرہ کے رویے کے مطابق ذاتی نوعیت کے انشورنس پراڈکٹس کی پیشکش کی جائے گی۔جاز کے کنزیومر ڈویژن کے صدر کاظم مجتبیٰ نے اس سروس کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے صارفین کی ضروریات کو سمجھ کر ان کے لیے انشورنس کے موزوں اختیارات تجویز کرے گی۔ یہ تجزیہ موبائل فون کے استعمال، سفری ریکارڈ، اور ادائیگی کے رویوں کے ذریعے کیا جائے گا، تاکہ ہر صارف کے لیے انفرادی طور پر بہترین انشورنس حل فراہم کیے جا سکیں۔مثال کے طور پر، اگر کوئی صارف بار بار سفر کرتا ہے، تو مصنوعی ذہانت اس کے سفری ڈیٹا کا تجزیہ کرے گی اور اس صارف کو مخصوص راستوں یا دورانیے کے لیے سفری انشورنس کی پیشکش کرے گی۔ اسی طرح، اگر کوئی صارف اپنے موبائل فون کو بار بار تبدیل کرتا ہے، تو اسے ہینڈ سیٹ انشورنس کی تجویز دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، جاز اس ٹیکنالوجی کے ذریعے حقیقی وقت میں صارفین کے رویے کی بنیاد پر انشورنس پریمیم کو ایڈجسٹ بھی کرے گا، جس سے انشورنس کی قیمتیں مزید سستی اور متعلقہ ہو سکیں گی۔
کاظم مجتبیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ سروس نہ صرف انشورنس کی پیچیدگیوں کو دور کرے گی، بلکہ یہ پاکستان کی مالیاتی صنعت میں ایک انقلابی قدم ثابت ہو گی۔ اس سے نہ صرف صارفین کو انشورنس کے معاملات میں آسانی ہو گی، بلکہ مالی تحفظ کی فراہمی بھی مزید سادہ اور مؤثر بن جائے گی۔اس کے علاوہ، جاز کی جانب سے کیش لیس ادائیگیوں کے نظام کو بڑھانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں تاکہ پاکستان میں نقد لین دین کے بجائے ایک شفاف، دستاویزی معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔ جاز کا مقصد پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں انقلابی تبدیلیاں لانا ہے اور اسے مالیاتی طور پر زیادہ مربوط اور جامع بنانا ہے۔ اس کے ذریعے جاز کا یہ عزم ہے کہ لوگوں کے مالی معاملات کو بہتر طریقے سے منظم کیا جا سکے گا اور ملک کی معیشت کی ترقی میں بھی حصہ ڈالا جا سکے گا۔