جنوبی کوریا میں ایف-16 سی لڑاکا طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ محفوظ

جنوبی کوریا میں ایف-16 سی لڑاکا طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ محفوظ

جنوبی کوریا  میں جنوبی کورین فضائیہ کا ایک ایف 16 سی لڑاکا طیارہ تربیتی مشق کے دوران گر کر تباہ ہو گیا، تاہم پائلٹ محفوظ رہا۔

 حادثہ یونگجو شہر کے قریب پہاڑی علاقے میں پیش آیا، جس کے بعد حکام نے فوری طور پر ریسکیو اور تحقیقات کا عمل شروع کر دیا۔

حادثے کی تفصیلات
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کورین فضائیہ کا ایف-16 سی طیارہ معمول کی تربیتی پرواز پر تھا کہ اچانک اسے فنی خرابی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ یونگجو کے قریب پہاڑی سلسلے میں گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے کے فوری بعد ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔

پائلٹ محفوظ رہا
فضائیہ کے حکام کے مطابق طیارے کا پائلٹ ہنگامی صورتحال میں بروقت ایجیکشن کرنے میں کامیاب رہا، جس کے باعث وہ محفوظ رہا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پائلٹ کو شدید زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی، جبکہ زمین پر بھی کسی شہری کے جانی یا مالی نقصان کی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔

حادثے کے بعد آگ بھڑک اٹھی
طیارہ گرنے کے بعد جائے حادثہ پر آگ بھڑک اٹھی، جس سے قریبی جنگل میں بھی آگ لگ گئی۔ تاہم فائر فائٹرز اور ہنگامی عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ کو قابو میں کرنے کی کوشش شروع کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ کے پھیلنے کا خطرہ محدود ہے اور اسے جلد مکمل طور پر بجھا دیا جائے گا۔

تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم
جنوبی کورین فضائیہ نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے نائب چیف آف اسٹاف کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ کمیٹی طیارے کے بلیک باکس، تکنیکی ریکارڈ اور پرواز سے متعلق دیگر شواہد کا جائزہ لے کر حادثے کی اصل وجہ معلوم کرے گی۔

24 گھنٹوں میں ایف-16 کا دوسرا حادثہ
یہ واقعہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکی ساختہ ایف-16 طیارے کا یہ دوسرا حادثہ ہے۔ اس سے قبل Turkey کی فضائیہ کا ایک ایف-16 طیارہ مغربی ترکیہ میں ایک ہائی وے کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں پائلٹ میجر ابراہیم بولات ہلاک ہو گئے تھے۔

ایف-16 طیارے کی اہمیت
ایف-16 فائٹنگ فالکن دنیا کے جدید اور کثیر المقاصد لڑاکا طیاروں میں شمار ہوتا ہے، جو فضائی دفاع، زمینی حملوں اور مختلف فوجی آپریشنز میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ طیارہ کئی ممالک کی فضائی افواج کا اہم حصہ ہے، جن میں جنوبی کوریا اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔