لاہور(آئی این پی )لاہور ہائیکورٹ میں ایک سال سے مبینہ طور پر لاپتہ شہری کی عدم بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مغوی کی بازیابی کیلئے دو ہفتوں کی مہلت دے دی اور واضح کیا کہ بازیابی نہ ہونے کی صورت میں آئی جی پنجاب کو خود پیش ہو کر وضاحت دینا ہوگی۔ جسٹس فاروق حیدر نے شہری عثمان علی کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے موقع پر ایڈیشنل آئی جی پنجاب عمران ارشد، آر پی او گوجرانوالہ خرم شہزاد، ڈی آئی جی لیگل ملک اویس احمد، ڈی پی او گجرات رانا عمر فاروق اور ڈی پی او منڈی بہاالدین عبدالرحیم شیرازی سمیت دیگر پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب مدثر نوید چھٹہ نے آئی جی پولیس کی جانب سے رپورٹ پیش کی۔ دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ تفتیش تبدیل ہونے کے بعد اب تک کیا پیش رفت ہوئی اور کیا انویسٹیگیشن مکمل ہو چکی ہے، جس پر لا افسر نے بتایا کہ تفتیش ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی جبکہ ایڈیشنل آئی جی عمران ارشد نے بھی عدالت کو آگاہ کیا کہ مغوی تاحال بازیاب نہیں ہو سکا