جاسوسی اداروں کا موجودہ نسخہ روس میں ناکام ہوچکا تھا:محمود اچکزئی

جاسوسی اداروں کا موجودہ نسخہ روس میں ناکام ہوچکا تھا:محمود اچکزئی

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے اسلام آباد میں منعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور جاسوسی اداروں کے کردار پر اہم تنقید کی۔

 انہوں نے کہا کہ جو طریقہ کار آج پاکستان کے جاسوسی ادارے استعمال کر رہے ہیں، وہ وہی نظام ہے جو سوویت یونین نے استعمال کیا تھا اور جسے آخرکار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ہمیں اس تلخ تجربے سے سیکھنا چاہیے۔محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ جاسوسی ادارے ہر ملک کے لیے انتہائی اہم ہیں، کیونکہ یہ سیاسی قیادت کو ضروری معلومات فراہم کرتے ہیں جس کی بنیاد پر وہ قومی مفاد میں فیصلے کرتے ہیں۔ تاہم، ان کے مطابق پاکستان میں یہ نظام مختلف ہے، جہاں منتخب نمائندے نہ ہونے کے باوجود بعض افراد اقتدار میں آ کر عوام کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے اپنے ذاتی مفادات کے لیے فیصلے کرتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں حقیقی جمہوریت کی ضرورت ہے اور عوام کو ان کے حق حکمرانی دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی آزادی کے بعد بھی عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور جب کبھی ان کے حق حکمرانی کی بات کی جاتی ہے تو جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے 1947 کی آزادی کے بعد کے سیاسی عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس آزادی کے فائدے عوام تک نہیں پہنچے اور ہم نے اپنے بزرگوں کی نصیحتوں کو نظرانداز کیا ہے۔