وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں ایک مرحلے پر اہم پیش رفت ہوئی تھی، تاہم بعض شرائط کے باعث معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔
طلال چوہدری کے مطابق وزیراعظم نے واضح کیا تھا کہ ملک کی بہتری کے لیے اگر کسی اقدام سے اپوزیشن کو سیاسی فائدہ بھی پہنچتا ہے تو حکومت کو اس پر اعتراض نہیں، تاہم دہشت گردی کے معاملے پر مکمل تعاون درکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے اگلے روز دہشت گردی کے معاملے پر بھی مکمل اتفاق رائے ہونا تھا۔وزیر مملکت نے بتایا کہ دوسرے روز تیار کیے گئے پہلے ڈرافٹ میں تمام سیاسی معاملات پر اتفاق رائے ہوگیا تھا، جس میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سمیت دیگر معاملات بھی شامل تھے۔ انہوں نے اسے ’’میثاق جمہوریت ٹو‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بڑا بریک تھرو تھا۔طلال چوہدری کے مطابق پہلا ڈرافٹ رات 9 بجے تیار ہوا، جسے وزیر داخلہ صدر مملکت کے پاس لے کر گئے۔ مذاکرات کے آخری لمحات میں حکومتی ٹیم مسلسل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے رابطے میں تھی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف روزانہ شہدا کے جنازوں میں شرکت کرتے ہیں، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام بھی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ ان کے مطابق انسداد دہشت گردی کا ایکشن پلان صرف حکومت کا نہیں بلکہ قومی سطح کا معاملہ ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر اتفاق رائے کے بعد اپوزیشن کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے اسپیس دینے کی بات بھی ہوئی تھی اور وزیراعظم نے سیاسی اسپیس فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔وزیر مملکت نے مزید کہا کہ مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے بعض شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ ان کے مطابق جب تک ایسے معاملات ختم نہیں ہوتے اور وزیر داخلہ کی جانب سے کیے گئے اعلان پر مکمل عمل نہیں ہوتا، بات چیت آگے بڑھانا مشکل ہے۔انہوں نے دہشت گردی کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کو شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ طلال چوہدری نے مزید کہا کہ ٹی ایل پی ہو یا کوئی اور گروہ، اب دہشت گردی اور بدامنی کے معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔