تھر: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ موجودہ سسٹم ناکام ہوچکا ہے، نئے صوبوں کی منطق سمجھ نہیں آتی، اگر اسلام آباد انتظامی طور پر ناکام ہوچکا ہے تو اسے تھر کے حوالے کردینا چاہیے۔
تھر کول فیز تھری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسلام آباد کے ماہرین ماضی میں تھر کے کوئلے کو بے کار قرار دیتے تھے، تاہم آج اسی کوئلے سے 2 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ تھر کی ترقی اور قومی معیشت کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ تھر میں ہونے والی تبدیلی پورے ملک کے لیے حیران کن ہے، جہاں بچے تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تھر کی ترقی ملک کے آئین اور اٹھارہویں ترمیم کی عملی مثال ہے، جبکہ تھر کوئلے کے منصوبوں سے 1.6 ارب ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بچایا جا رہا ہے۔سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ کچھ عناصر تھر کی ترقی کو ہضم نہیں کر پا رہے اور کراچی میں نفرت کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں صیہونی طرز کی سیاست کبھی کامیاب نہیں ہوگی، کیونکہ تھر کے عوام ترقی کے سفر پر گامزن رہنا چاہتے ہیں۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک میں نئے صوبے بنانے کے بجائے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد کی انتظامی ناکامی کا حل یہ ہے کہ اسے تھر کے ماڈل پر چلایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت اسلام آباد چلانے میں ناکام ہوگئی ہے تو ہمیں ذمہ داری دی جائے، ہم اسلام آباد کے اسکولوں اور اسپتالوں کو بھی تھر کی طرح بہتر بنائیں گے۔