آپ فرعون سے طاقتور نہیں، وہ بھی ہار گیا تھا، ملک ایسے نہیں چل سکتا ، محمود اچکزئی

آپ فرعون سے طاقتور نہیں، وہ بھی ہار گیا تھا، ملک ایسے نہیں چل سکتا ، محمود اچکزئی

اسلام آباد: اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود تمام جماعتوں کو مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنایا جائے، ملک میں کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے اور عوام کو درپیش معاشی مسائل پر توجہ دی جائے۔محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ جب اپوزیشن حکومت سے بات کرنے کی کوشش کرتی ہے تو جواب میں گالم گلوچ شروع ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو ایک دوسرے پر الزامات لگانے کے بجائے سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

کرپشن کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنانے کا مطالبہ
اپوزیشن لیڈر نے حکومت سے سوال کیا کہ ملک میں مبینہ کرپشن کے معاملات کی تحقیقات کے لیے اب تک مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی مطالبہ کر چکے ہیں کہ حکومت کے دور میں ہونے والی کرپشن کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔انہوں نے حنیف عباسی کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر ووٹ کے لیے پیسے دینے کے الزامات یا دعوے کیے جا رہے ہیں تو ان کی حقیقت واضح کی جائے۔ ان کے اس بیان کا مقصد سیاسی معاملات میں شفافیت اور جواب دہی پر زور دینا تھا۔

پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنایا جائے، محمود اچکزئی
محمود اچکزئی نے خواجہ آصف اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت حکومتی و دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کو پارلیمنٹ کی بالادستی اور مضبوطی کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پارلیمنٹ کو حقیقی معنوں میں مضبوط بنائے تو اپوزیشن بھی اس مقصد کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے سیاسی نظام کو کمزور کرنے کے بجائے جمہوری اداروں کو مستحکم کیا جائے۔ انہوں نے ماضی میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ سیاسی قیادت کو ایسی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے جن سے ملک اور ریاستی اداروں کو نقصان پہنچا۔محمود اچکزئی نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو یہ سوچنا چاہیے کہ ملک کو کس سمت لے کر جانا ہے اور اختلافات کو کس طرح بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

غربت، بے روزگاری اور بچوں کی تعلیم پر تشویش
اپنے خطاب میں اپوزیشن لیڈر نے ملک کی معاشی صورت حال اور عوام کو درپیش مشکلات پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غربت، بے روزگاری اور تعلیمی محرومی جیسے مسائل سنگین توجہ کے متقاضی ہیں۔محمود اچکزئی نے دعویٰ کیا کہ ملک میں لاکھوں افراد کی آمدنی ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے، جبکہ تقریباً 6 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ انہوں نے ان اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کی معاشی اور تعلیمی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف مہنگائی کے باعث متوسط طبقہ بھی اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب غریب شہریوں کے لیے محدود آمدنی میں گھر چلانا مشکل ہو چکا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ جب شہریوں کو روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں دشواری ہو تو ایسے حالات میں ملک کی ترقی اور خوشحالی کے دعوے کس طرح حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں۔

افغانستان کے ساتھ تعلقات اور طالبان سے متعلق مؤقف
محمود اچکزئی نے افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان قریبی روابط رہے ہیں۔ انہوں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کو محض موجودہ سیاسی یا سکیورٹی اختلافات کی بنیاد پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کے افغانستان جانے کے امکان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے وہاں خاندانی اور سماجی روابط بھی موجود ہیں۔طالبان کے حوالے سے محمود اچکزئی نے کہا کہ ماضی میں انہیں قومی اثاثہ قرار دیا جاتا رہا ہے، اس لیے اس معاملے کو صرف شور شرابے اور سخت بیانات کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ سیاسی حکمتِ عملی اور بات چیت ضروری ہے۔

ایران کی صورت حال پر پارلیمان کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ
اپوزیشن لیڈر نے ایران کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت قومی معاملات پر اپوزیشن کو اعتماد میں لے اور مشاورت کا راستہ اختیار کرے تو اپوزیشن بھی تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق خارجہ پالیسی اور خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال جیسے اہم معاملات پر سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانی چاہیے۔محمود اچکزئی نے اس بات پر زور دیا کہ قومی مسائل کا حل کسی ایک جماعت کے بس کی بات نہیں، بلکہ اس کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

سیاسی قیادت کو مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت
اپنے خطاب کے اختتام پر محمود اچکزئی نے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر مذاکرات شروع کرنے کی دعوت دی۔انہوں نے کہا کہ نہ حکومت اتنی طاقتور ہے کہ اسے کسی کی ضرورت نہ ہو اور نہ ہی اپوزیشن کو مکمل طور پر غلط قرار دیا جا سکتا ہے۔ سیاسی قیادت کو ایک دوسرے کی بات سننی چاہیے اور ملک کے مفاد میں مشترکہ فیصلے کرنے چاہییں۔