وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) نے ملک بھر کی تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو ہدایت دی ہے کہ وہ نیٹ میٹرنگ کے اثرات کو نظر انداز کرتے ہوئے بجلی کی سپلائی پر 18 فیصد سیلز ٹیکس وصول کریں۔
فیصلے کی تفصیلات:
ایف ٹی او نے واضح کیا کہ سیلز ٹیکس نیٹ آف ویلیو پر نہیں بلکہ بجلی کی کل سپلائی پر لاگو ہوگا۔
نیٹ میٹرنگ کے کسی بھی اثر کو نظر انداز کرتے ہوئے ٹیکس وصول کیا جائے گا تاکہ قومی خزانے کو نقصان نہ ہو۔
کے الیکٹرک اور دیگر بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے 18 فیصد سیلز ٹیکس وصول کرنے کی پابند ہوں گی۔
ایف ٹی او کے مطابق، تمام سرکاری ڈسکوز قوانین کے مطابق سیلز ٹیکس کی مکمل وصولی نہیں کر رہیں، جس کے باعث قومی خزانے کو سالانہ 9 ارب 38 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
ایف بی آر کو تحقیقات کی ہدایت
ایف ٹی او نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 60 روز میں تحقیقات مکمل کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ بجلی کے شعبے میں سیلز ٹیکس وصولی کے نظام کو شفاف بنایا جا سکے۔
کے الیکٹرک کا کردار
کے الیکٹرک درست قانونی شقوں کے مطابق سیلز ٹیکس وصول کر رہی ہے۔
کے الیکٹرک کے صارفین میں سے کچھ نے ایف ٹی او کو شکایت درج کرائی تھی کہ بجلی کی مجموعی سپلائی پر ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جس پر ایف ٹی او نے وضاحت دی کہ یہی طریقہ کار درست اور قانونی ہے۔
فیصلے کا اثر
بجلی صارفین کو فراہم کی جانے والی بجلی کی کل مقدار پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہوگا، چاہے صارفین سولر نیٹ میٹرنگ کے ذریعے اضافی بجلی پیدا کر رہے ہوں۔تمام بجلی تقسیم کار کمپنیاں اس فیصلے کی پابند ہوں گی تاکہ ٹیکس کا نظام مستحکم ہو اور قومی خزانے کو نقصان نہ پہنچے۔