پیپلز پارٹی کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے وفاق کی نئی متبادل انرجی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سولر نیٹ میٹرنگ کے قوانین میں کی گئی تبدیلیاں صارفین کے حق میں نہیں ہیں اور ان کا مقصد قابل تجدید توانائی کے استعمال کو نقصان پہنچانا ہے۔شازیہ مری کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے سولر صارفین کو 27 روپے فی یونٹ کی قیمت کے بجائے صرف 10 روپے فی یونٹ پر بجلی فروخت کرنے پر مجبور کرنا ظلم اور ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اسے پاکستان کی توانائی کی خود مختاری اور قابل تجدید توانائی کے مستقبل سے غداری قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت، گرین انرجی کے صارفین کو سہولت دینے کے بجائے ان سے کھلی جنگ کر رہی ہے اور انہیں مہنگے نرخوں پر بجلی خریدنے پر مجبور کر رہی ہے۔ شازیہ مری نے اس اقدام کو عوام کا معاشی استحصال اور ان کے حق میں کی جانے والی پالیسیوں کی نفی قرار دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی یہ پالیسی نہ صرف ملک کی شمسی توانائی کی صنعت کو تباہ کر دے گی بلکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی متاثر کرے گی۔ اس کے نتیجے میں فرسودہ اور ناکام گرڈ پر انحصار بڑھے گا اور گرین انرجی کے مواقع محدود ہو جائیں گے۔شازیہ مری نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ظالمانہ پالیسی کو فوری طور پر واپس لے اور اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اپنی عوام دشمن پالیسی واپس نہ لی تو پیپلز پارٹی اس کے خلاف عدالتی، سیاسی اور عوامی سطح پر سخت مزاحمت کرے گی۔