کالم نگار ڈاکٹر جمشید نظر
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات نہ صرف مذہبی بلکہ معاشی،اقتصادی،ثقافتی،تعلیم ،توانائی اور سرمایہ کاری سمیت تمام اہم شعبوں میں بھی گہرے اور مستحکم ہیں۔سعودی عرب کی پاکستان میں حالیہ سرمایہ کاری ایک اہم سنگ میل ہے جس سے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں نئی جہتیں متعارف ہو رہی ہیں۔سعودی عرب کی پاکستان میں سرمایہ کاری کا یہ سلسلہ سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت بڑھتا جا رہا ہے جو کہ سعودی عرب کے معاشی تنوع کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب نے پاکستان میں توانائی،ٹیکسٹائی،زراعت اورانفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت دیگر اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے لئے اربوں ڈالر کے27 اہم معاہدے کرکے اس بات کو مزید تقویت دی ہے کہ سعودی عرب پاکستان کا ایک ایساسچا دوست ہے جوہرحالات میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔پاکستان میںسرمایہ کاری کے معاہدوں کے لئے آنے والے سعودی وزیر برائے سرمایہ کاری خالد بن عبدالعزیز الفالح نے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ نئے تجارتی معاہدے ایک آغاز ہے جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کریںگے۔
سعودی عرب کے پاکستان میں نئے تجارتی معاہدوں کے بعددنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی ’’سعودی آرامکو‘‘ (Saudi Aramco) کا پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنا ملک میں معیشت کی بحالی و ترقی کے نئے عندیے دے رہا ہے ۔ سعودی عرب کی حکومت پاکستانی سیاحوں کے لیے ویزا پالیسی میں بھی آسانیاں فراہم کر رہی ہے۔پاکستان کے ہزاروں ہنر مند افراد سعودی عرب میں کام کرتے ہیں جو دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سعودی عرب نے پاکستانی ورک فورس کے لیے بہترین ماحول فراہم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں ورک ویزا پالیسی میں نرمی اور پاکستانی کارکنوں کے حقوق کا تحفظ شامل ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کے سیاحتی شعبہ میں سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان سیاحت کے شعبے میں بھی تعلقات کو مزید فروغ دیا جا سکے۔سعودی عرب نے پاکستان کے ثقافتی ورثے کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے مشترکہ منصوبوں کی تجویز دی ہے۔پاکستان کا زرعی شعبہ سعودی عرب کے لیے اہم تجارتی مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان بڑے ممالک میں شامل ہے جوچاول، گندم اور پھلوں کی پیداوار میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیںاور سعودی عرب ان اجناس کا بڑا خریدار ہے۔ سعودی عرب نے پاکستانی کھانے اور زرعی پیداوار کی تجارت کو مزید فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔پاکستانی حکومت نے سعودی عرب کے ساتھ زرعی شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے مختلف پروگرامز شروع کیے ہیں جن میں جدید زرعی ٹیکنالوجی کی فراہمی اور پاکستانی کسانوں کے لیے جدید تربیتی پروگرام شامل ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں بھی پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب نے پاکستانی تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف تعلیمی شعبے میں جدید تحقیق اور تدریسی مواد کی منتقلی کے خواہاں ہیں تاکہ پاکستانی تعلیمی ادارے عالمی معیار کی تعلیم فراہم کر سکیں۔ سعودی عرب نے پاکستان کے تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے فنڈز فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے جس سے پاکستانی تعلیمی اداروں میں جدیدتعلیمی ریسرچ اور نصاب متعارف کرانے میں مدد ملے گی۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاشی تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک نے اپنے اقتصادی مفادات کو مشترکہ ترقی کے راستے پر استوار کرنے کا عہد کیا ہے۔ سعودی عرب کی سرمایہ کاری پاکستان کی معیشت کو نئی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد فراہم کر رہی ہے اگر یہ تعاون جاری رہا تو نہ صرف پاکستان بلکہ سعودی عرب بھی اس شراکت داری سے فوائد حاصل کرے گا اور دونوں ممالک عالمی سطح پر ایک مضبوط معاشی طاقت بن کر ابھریں گے۔