سہیل کوثر
جادو برحق ہے اور ازل سے حسد اپنے مخالف دوستوں رشتہ داروں پر کرتے چلے آئے ہیں جادو کرنے والے اور کروانے والے دونوں ہی جہنم میں ڈال دیے جائیں گے سب سے پہلے تو میں جادو کے بارے میں بات کروں گا کہ جادو ہوتا کیا ہے اور یہ کیسے دوسرے انسان کا بیڑا غرق کرتا ہے اور کن پر یہ زیادہ اثر انداز ہوتا ہے دور حاضرہ میں جادو کرنے والے بہت ہیں اور ان میں سے چند ایک کے علاوہ سب دھوکے باز لوگ ہیں لیکن ایمان کی کمزوری ان کو بھی اپنے ناپاک مقاصد میں کام جب کر دیتی ہے وہ ایسے کہ جادو کرنے والا سب سے پہلے ان اس بندے کو نفسیات کو جاننے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے بعد اس کو ذہنی طور پر مفلوج کر کے پریشان کر دیتا ہے وہ انسان سمجھتا ہے کہ میرے اوپر کسی نے جادو کر دیا ہے پھر وہ مختلف عاملوں کے آستانوں پر ہی اپنے روپے کی بربادی کے ساتھ اپنی پریشانی کو ختم کرنے کے ہیلے بہانے تلاش میں لگ جاتا ہے لیکن نتائج صفر ہی ہوتے ہیں باحیثیت مسلمان ہم بھی اپنے قران کی مدد لینے کی بجائے شارٹ کٹ کی تلاش میں لگے رہتے ہیں اور اپنے اپ کو برباد کر لیتے ہیں جبکہ اللہ پاک نے قران پاک کی آخری دو سورہ الفلق سورہ الناس میں واضح طور پر اس کا حل اور جادو تعویز گنڈوں سے بچاؤ کے لیے ان سورہ کو اتار کر قران مجید ختم فرما دیا ہے تاکہ آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ان حاسدوں اور جادوگروں سے بچ سکتی ہے یہ دو سورتیں ہی ہیں جن کو ہم روزانہ کی بنیاد پر تلاوت کر کے اپنے آپ پر کیے گئے جادو کو ختم کر سکتے ہیں لیکن ان کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا اور کمزور ایمان کی وجہ سے ہم اپنے سب کچھ برباد کر کے مخالف کی جیت کو چار چاند لگا دیتے ہیں اور وہ حاسد اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب ہو کر فخر محسوس کرتے ہیں
اب بات کرتا ہوں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کہ پاکستان ہر مرتبہ انڈیا ہی سے ہی کیوں ہار جاتا ہے جبکہ اس سے پہلے ٹیم و قوم جیت کے لیے پرعزم ہوتی ہے اور جیسے ہی میچ شروع ہوتا ہے ٹیم ایک دم اپنا ذہنی توازن برقرار نہ رکھتے ہوئے ہار کی طرف گامزن ہو جاتے ہیں کرکٹ چیمپین ٹرافی کا انعقاد پاکستان کی میزبانی میں ہے لیکن انڈیا نے اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے سے صاف انکار کر دیا جس کی بنیادی وجہ جو اب تک کی اطلاع کے مطابق ہے کہ انڈیا نے اپنی ٹیم کے ساتھ 22 پنڈت جو کہ ہر پاکستانی کھلاڑی کے ساتھ دو پنڈت جادو کرنے کے لیے سٹیڈیم میں موجود ہوں گے جو ٹیم کے ساتھ بھجوائے ہیں جو اپنے مکروہ جادو کے ذریعے ہر اس پاکستانی کھلاڑی کے خلاف منتر کر رہے ہوں گے جن سے کھلاڑی کی کارکردگی متاثر ہو جاتی ہے انڈین کرکٹ بورڈ کا ٹیم کو پاکستان نہ بھیجنے بھیجنا بھی اس معاملے کی کڑی ہے کہ اگر ٹیم پاکستان جا کے کھیلتی ہے تو یہ 22 پنڈت پاکستان نہیں جا سکتے ان کو ہو سکتا ہے ویزہ ہی نہ ملے یا سٹیڈیم میں داخلہ پر پابندی عائد کر دی جائے جس کی وجہ سے انہوں نے دبئی میں ہی کھیلنے کو ترجیح دی جو وہ اپنے مقاصد میں کسی حد تک کامیاب بھی ہو گئے ہیں اب ہم بحیثیت مسلمان اگر ان چیزوں کا مقابلہ کرنا ہے تو پہلے ہمیں اسلامی اصولوں پر اپنی زندگی بنانی پڑے گی باوضو ہو کر میدان میں اترنا ہوگا ہر وہ کھلاڑی جو اگر ان پنڈت کے جادو کے اثرات سے بچنا چاہتا ہے وہ قرانی آیات اور اخری دو سورہ کی تلاوت کرتے ہوئے میدان میں کھیلنے کے لیے ائے تو پھر انشاء
اللہ فتح ہماری ہوگی یہاں میں اپنا ایک واقعہ *اپنے قائرین کی ذوق نظر کرنا چاہوں گا جو میرے اپنے ساتھ انڈیا میں پیش ایا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ میں پاکستان ڈارٹس ٹیم میں بطور نائب کپتان 2006 میں دوستی ڈارٹس کپ کھیلنے کے لیے دہلی اور اس کے بعد راجستھان کے خوبصورت شہر جے پور میں کھیلنے کے لیے گیا وہاں میرا مقابلہ انڈیا کے مہ ناز کھلاڑی ارناپ رائے سے ہوا جو دوران میچ جب میں اپنی باری کے لیے آتا تو وہ میرے پیچھے کھڑے ہو کر کچھ منتر پڑتا اور مجھ پر پھونک مار دیتا وقتی طور پر میرے اوپر گھبراہٹ کے اثرات ہوتے ہاتھ کانپتے جس سے میں اپنی گیم صحیح طریقے سے نہ کھیل پا رہا تھا لیکن اس دوران میں نے اپنے اپ پر قابو رکھتے ہوئے قرانی آیات کا ورد کرتے ہوئے وہ لیگ میچ جیت لیا اس کے بعد فائنل بھی میرا اسی کھلاڑی کے ساتھ آگیا تو پھر وہی صورتحال پیش ائی جس پر میں نے فورا ایمپائر سے ٹائم آوٹ لے کر واش روم جا کر وضو کیا اور ایت الکرسی اور سور? الفلق سورہ الناس کی تلاوت کرتے ہوئے اس کو للکار کر کہا کہ اب آجاؤ اور اللہ کی رحمت اور ایمان کی طاقت سے میں واحد وہ کھلاڑی ہوں جس نے انڈیا کے بہترین کھلاڑی جو اس کا نیشنل کھلاڑی تھا کو فائنل میں دو زیرو سے ہرا کر پاکستان کے لیے فتح اپنے نام کی میرے اس واقعے کا مقصد اپنی بڑائی بیان کرنا نہیں بلکہ مسلمان ہونے کے ناطے ان ہندو پنڈتوں کا مقابلہ قرانی ایات سے مدد لے کر لڑنا اور ان کو شکست دینا تھا کہ اگر ان کے پاس منفی منتر جادو ہے تو میرے پاس قران ہے جو ہر میدان میں ہماری فتح کی گارنٹی ہے لیکن اگر ہم اپنے ہیروز کی بات کریں تو جن کے بے شمار مراعات کے علاوہ بھاری تنخواہیں بیوی بچوں کے لیے گاڑیاں گھر بار پٹرول کھانا پینا تک فری ہے اور رہی کسر سبز رنگ زیب تن کرنے کے بعد بھی ان کے اوپر مسلمان دشمن کمپنیوں کے اشتہارات سے الگ بزنس جن سے ان کو کروڑوں روپے ایسے ہی مل رہے ہوں ان کو نماز قران کی تلاوت اور اپنی یا پاکستانی ہار جیت سے کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ ان کا منجن تو اچھے خاصے انداز میں بک رہا ہے اور ان کو پوچھنے والا بھی کوئی نہیں بلکہ قوم سے یہ پھر بھی یہ سننا چاہتے ہیں کہ ؛؛تم ہارو یا جیتو ہمیں تم سے پیار ہے ؛؛ یہ ان کو مزید حوصلہ افزائی کے لیے یا دوسرے الفاظ میں ہارنے کی کوتاہی کو بھلانے کے لیے کافی ہیں اب ان ہیروز کی تنخواہوں کی بات کروں تو جون 2023 سے اگلے تین سال کے لیے جن کھلاڑیوں میں اے کیٹگری میں ماہانہ تنخواہ 45 لاکھ روپے کیٹگری بی کے کھلاڑیوں کی تنخواہ 30 لاکھ روپے جبکہ کیٹگری سی کے کھلاڑیوں کی 15 لاکھ روپے مقرر ہوئی کیٹگری اے میں بابراعظم محمد رضوان شاہین آفریدی کیٹگری بی میں شاداب خان فخر زمان حارث رؤف اور وسیم شاہ جبکہ کیٹگری سی میں عماد وسیم حسن علی افتخار علی وغیرہ شامل ہیں اب ان ہیروز پر نوازشات کا سلسلہ یہاں تک ہی نہیں ٹیسٹ میچ کی مد میں 10 لاکھ روپے ون ڈے کی میچ کی میں 25 فیصد اضافے کے بعد چھ لاکھ روپے سے اوپر اور ٹی20 میچ میں بھی اب اچھی خاصی رقم ان کے کھاتے میں شامل ہوئی بات یہاں تک ہی نہیں سال میں دو لیگز کھیلنے کی اجازت سے الگ آمدنی ون ڈے میچ کے انعام لوکل مارکیٹ سے الگ پیسے ملتے ہیں لیکن کارکردگی کو دیکھا جائے تو قوم مایوس ہی ہوتی ہے آخر میں اج سے 20 سال پہلے کے کھلاڑیوں کا ذکر خیر کروں تو مجھے جاوید میاں داد کے وہ بات بولتی نہیں جب اس نے ایک انٹرویو فرمایا تھا کہ میں جب کھیلا کھبی بھی بے وضو میچ کھیلنے کے لیے میدان میں نہیں اترا مدثر نظر ظہیر عباس یہ قوم کے وہ سپوت ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ اپنی گیم کے ساتھ ایمانداری سے انصاف کیا اب مراعات زیادہ اور کارکردگی صفر۔۔
دوسری بات اگر کافر اپنے منفی پروپگنڈے سے اپنے جادوگروں کو میدان میں اپنے کھلاڑیوں کی سپورٹ کے لیے بیچتا ہے تو ہمارے پاس
ایمان کی طاقت والے بڑے نیک لوگ جو اپنے ساتھ ساتھ دین کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیے ہوئے ہیں ان کو کھلاڑیوں کی کونسلنگ کے لیے بھی ساتھ بھیجنا چاہیے ہمیں افسوس ہے کہ ہم نے اپنے عامل دین لوگوں کو صرف ختم پاک نکاح اور جنازوں کے لیے ہی رکھا ہوا ہے ان سے ہم نے اپنے ملک کی ناموس کے لیے بھی خاطر خواہ خدمات لے سکتے ہیں جن سے ہمارے معاشرے کے ساتھ ہمارے ہیروز کو زندگی میں بھی تبدیلی ائے گی ماضی میں سعید انور مشتاق احمد اور محمد یوسف جیسے ہیروز نے اپنی زندگی تبدیل کر کے کامیابیاں اور ملک کی ناموس میں بھی اہم کردار ادا کیا