جن، جادو اور ذہنی امراض!!

ڈاکٹر وحید رزاق

بچپن سے جنات اور جادو کے بارے میں طرح طرح کے قصے کہانیاں سن رکھے تھے- کسی زمانے میں کچھ عرصہ خود بھی انہی کہانیوں کا سن کر خوف کا شکار رہا، پھر تقریبا بیس برس قبل چھوٹے بھائی قاسم کو ایک عجیب سی بیماری نے آن گھیرا جو نہ کسی ٹیسٹ میں آرہی تھی نہ اس کا علاج ہو پا رہا تھا- خود ابھی تک میں ڈاکٹر نہیں تھا اور نہ ہی ڈاکٹری کے مختلف شعبوں میں کوئی شناسائی اور رسائی تھی- پریشانی اور تکلیف میں ہم مختلف ڈاکٹرز اور ہسپتالوں کے چکر لگا لگا کر تھک گئے لیکن مسئلہ حل نہیں ہو پارہا تھا-  مرتے کیا نہ کرتے ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ آستانوں کے چکر لگانے بھی شروع کر دیے، ملک کے طول و عرض میں ہر وہ درگاہ اور پیر خانہ جو ہمیں بتایا جاتا، ہم پوری عقیدت اور امید کے ساتھ وہاں حاضر ہو جاتے- دو ہزار پانچ میں جب تباہ کن زلزلہ آیا تو اس وقت بھی میرے والد صاحب چھوٹے بھائی کو لے کر ایک پیر صاحب کے آستانہ میں موجود تھے- قصہ مختصر کچھ ماہ کے عرصے میں وہ وہ رنگ دیکھے کہ خدا کی پناہ، کسی پیر نے رشتہ داروں کے عملیات کی طرف نشاندہی کی تو کسی نے جنات اور موکلات کی کہانیاں سنائیں، پشاور کے ایک پیر صاحب کچھ ایسا 'دم' کرتے تھے کہ تین دن تک بھائی کی تکلیف بالکل ختم ہو جاتی تھی لیکن اس کے بعد پھر شروع ہو جاتی تھی، تیسرے چوتھے پھیرے میں ہم نے درخواست کی کہ ہم منڈی بہاؤالدین سے آتے ہیں، پشاور بہت دور پڑتا ہے، کچھ ایسا کریں کہ بیماری سے مکمل جان چھوٹ جا?، وہ فرمانے لگے کہ میں اپنا ایک موکل آپ کے ساتھ بھیج دیتا ہوں جو ہر وقت جنات کا مقابلہ کرے گا لیکن آپ ایسا کریں کہ جس گاڑی پر آ? ہیں یہ گاڑی چھوڑ جائیں اور بدلے میں ایک موکل ساتھ لے جائیں، ہم نے سوچا کہ گاڑی تو ہم دے جائیں لیکن اگر موکل ہمیں گھر چھوڑ کر واپس بھاگ آیا تو ہم کیا کریں گے؟ یہ سوچ کر ہم نے موکل کو وہیں چھوڑا اور گاڑی لے کر واپس آ گئے- خیر بھائی کی بیماری بعد ازاں لالہ موسی کے ڈاکٹر فہد عثمان صاحب کے والد ڈاکٹر عثمان صاحب نے  ulcerative colitis تشخیص کی اور مکمل علاج سے بھائی الحمدللہ صحتیاب بھی ہو گیا-  نوجوانی کی عمر میں پیروں فقیروں اور جنات سے یہ میرا پہلا انٹرایکشن تھا- 

پھر جب سائیکائٹری میں سپیشلائزیشن کی تو ہر دوسرا مریض یا تو کسی درگاہ سے ہو کر ہمارے پاس آتا تھا یا ہمارے بعد ان کا کہیں جانے کا ارادہ ہوتا تھا، وقت کے ساتھ ساتھ سیکھا کہ اگرہم  لوگوں کو دم وغیرہ سے منع کیا تو لوگ ہمیں چھوڑ جائیں گے، دم  کو نہیں چھوڑیں گے، اس لیے یہی کہنا شروع کیا کہ دم اور دوائی کی آپس میں کوئی لڑائی نہیں ہے اور آپ دونوں کو جاری رکھیں- بعد ازاں کئی بہت اچھے اور عالم با عمل لوگوں سے ملاقات ہوئی، جو سراپا خیر ہیں، اور ہمہ وقت لوگوں کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں' ان میں سے کئی ایک ایسے ہیں جو مریضوں کو دم اور دعا کرنے کے بعد ہمارے پاس 'ریفر' کر دیتے ہیں اور روحانی شخصیات کے ریفر کردہ مریض ہمیں بھی پیروں والی عقیدت بھری نظروں سے دیکھ کر اکتساب فیض حاصل کرتے ہیں- اور ان کے ٹھیک ہونے کے امکانات کء گنا بڑھ جاتے ہیں- 

کئی دفعہ کلینک میں ایسی بھی صورتحال ہوئی کہ مریض پر ہمارے سامنے بیٹھے بیٹھے جن 'حاضر' ہو جاتے اور کہتے کہ 'ڈاکٹر تم ہمارا انکار کر رہے ہو ہم تمہیں چھوڑیں گے نہیں' اور یہ کہہ کر جن اپنے سامنے ٹیبل پر زور سے ہاتھ مارتا جبکہ میں اپنے سامنے بیٹھے جن کو اکثر کہتا کہ 'بھائی صاحب میں آپ کو تب مانوں گا جب آپ مجھے کرسی سمیت اٹھا کر کمرے سے باہر پھینک دیں گے' (ظاہر ہے یہ بات میں سامنے والے مریض کے قد کاٹھ اور جسامت کو دیکھ کر ہی کہتا ہوں اور یہ ان چند نایاب مواقع میں سے ہے جب میں اپنے بھاری الجثہ ہونے پر خوشی محسوس کرتا ہوں) اکثر ایسے مواقع پر جن مجھے دیکھ کر مسکرانے لگتا یے اور یوں ہم دوستانہ انداز میں باقی گفتگو جاری رکھتے ہیں- 

لیکن یہ موضوع ایسا ہے کہ اس پر بہت کچھ تلاش کے باوجود کبھی ہمہ پہلو احاطہ نہیں ہو سکا- مذہبی حوالے سے جنات کے وجود کا ذکر قرآن مجید میں ملتا ہے اور اس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا، لیکن جنات کا جسمانی اور ذہنی امراض سے کیا تعلق ہے؟ کیسے جنات کو نکالنے والی ایک متوازی انڈسٹری کھڑی ہو گء ہے؟ جنات کا انسانوں یا ان کی بیماریوں سے کیا تعلق ہے؟ اس پر کبھی کوئی سیر حاصل اور ہمہ پہلو گفتگو نہیں سنی تھی-  سائنسی طبقہ مذہب کا علم حاصل کرنے سے عاری ہے اور مذہبی طبقہ جدید سائنسی علوم سے دور' ایسے میں کوئی جا? تو کہاں جا?- میں نے اپنی کافی امیدیں عمران خان کی سوہاوہ میں بنائی جانے والی القادر یونیورسٹی سے باندھ لی تھیں کہ خان صاحب نے بتایا تھا کہ یہاں روحانی علوم کو سائنسی بنیادوں پر پڑھایا جا? گا- لیکن جنات کو اپنی دنیا میں شاید یہ مداخلت پسند نہ آئی اور خان صاحب اب اسی یونیورسٹی کے چکر میں مقدمات بھگت رہے ہیں- 

ایسے میں اس دفعہ انٹرنیشنل سائیکائٹری کانفرنس کے موقع پر اسلام آباد  قائد اعظم انٹرنیشنل ہسپتال میں ہماری کولیگ سائکائٹرسٹ ڈاکٹر صباحت حمید نے اسی موضوع پر ایک سیمینارمنعقد کرایا- اس میں سپیکر پروفیسر ڈاکٹر ماجد علی عابدی تھے جو اس موضوع پر اپنی گرفت کے حوالے سے بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں, ہمدرد یونیورسٹی کراچی  میں شعبہ سائکائٹری کے سربراہ رہ چکے ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے اسی ایک موضوع پر علم و تحقیق پر اپنی توانائیاں مرکوز کیے ہو? ہیں-مختلف مکاتب فکر کے علما سے مل چکے ہیں، سائنسی اور مذہبی دونوں حوالوں سے گفتگو کرتے ہیں،  انہوں نے اس موضوع پر اتنی سیر حاصل گفتگو کی کہ دل عش عش کر اٹھا' میں جتنے سوالات سوچ کر گیا تھا، سیشن کے اختتام تک وہ مجھے پوچھنے کی ضرورت ہی نہ پڑی- حاضرین بلا شبہ مسحور تھے کہ اس اہم موضوع پر کتنے ہی سوالوں کے جواب مل گئے تھے- 

کانفرنس کے دوسرے روز موقع غنیمت جان کر میں نے عابدی صاحب سے درخواست کی کہ کراچی سے آنا  ہے تو بہت مشکل لیکن کیا ہی اچھا ہو اگر ایسے ہی ایک سیشن کے لیے آپ ہمیں منڈی بہاوالدین میں بھی وقت عنایت کردیں' عابدی صاحب نے کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہو? حامی بھر لی اور کہا کہ اس مقصد کے لیے اگر میں دنیا بھر میں سفر کر سکتا ہوں تو منڈی بہاؤالدین کیوں نہیں؟ اسی لمحے کو 'لاک' کرتے ہو? میں نے مزید تفصیلات بھی طے کرلیں اور انہوں نے اگلے ہی ماہ یعنی 9 فروری کا وقت دے دیا- 

میری خواہش ہے کہ اس بیک وقت علمی ، سائنسی اور مذہبی سیشن میں شہر کے تمام اکیڈیمیا اور اہلیان فکر شرکت کریں اور اپنے اذہان و قلوب میں وسعت پیدا کریں- مجھے یقین ہے کہ یہ انشا اللہ ایسا سیشں ہو گا جسے آپ طویل عرصہ یاد رکھیں گے

مزید تفصیلات جلد شئیر کی جائیں گی اور ہم آپ کی شرکت کے منتظر رہیں گے- اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو-