پاکستانی کرکٹ ٹیم -- بہتری اور انقلابی اقدامات کی ضرورت۔

محمد علی 
کرکٹ پاکستان کا قومی کھیل تو نہیں مگر کروڑوں لوگوں کی جان اور دلوں کی دھڑکن ہے۔ پاکستانی اور ہندوستانی دیوانگی کی حد تک اس کھیل کے پرستار اور محبت کرنے والے ہیں۔
کھیل کو کھیل ہی رہنا چاہئے مگر جب دیوانگی و جنوں کا عالم انتہا پر ہو تو دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ جنگ جیسی صورتحال کا منظر پیش کرتا ہے۔ جس کا ثبوت انڈیا اور پاکستان کے درمیان مقابلہ سے کیا جاسکتا ہے۔ دونوں ملکوں کے عوام کی چاہت صرف اپنی جیت ہے۔
پاکستانی عوام بھی اپنی ٹیم کو دیوانگی کے حد تک چاہتی ہے اور عوام کی چاہت ہے  کے کھلاڑی اچھا کھیلیں اور ملک و قوم کا نام روشن کریں۔ 1990 تک کی کرکٹ میں پاکستان اپنے عروج کے منازل طے کر رہا تھا۔ ورلڈکپ کی ٹرافی پاکستان کے نام ہوئی اور پھر بعد کے کچھ سالوں میں انظمام ، مصباح، یونس خان اور سرفراز احمد کی نمائندگی میں کرکٹ ٹیم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 2009 میں ٹی۔ٹونٹی ورلڈ کپ یونس خان کی سربراہی
میں پاکستان کیلئے  جیتے پھر 2017 میں سرفراز احمد کی قیادت میں انڈیا کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا اور چمپئینز ٹرافی ٹرافی پاکستان کے نام ہوئی۔ ان یادگار فتوحات کے بعد ہم پاکی کء  برس گزرنے کے باوجود کرکٹ میں وہ بہتر مقام حاصل نہیں کرسکے اور ابھی تک کسی اچھے فتح، کوء چھوٹا یا بڑا ٹورنامنٹ جیتنے کی آرزو اور خواہش ہر پاکستانی کی دل کی آواز ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستانی کرکٹ زبوں حالی کا شکار ہوگئی۔ نورخان، توقیر ضیاء￿ ، شہریار خان، نجم سیٹھی، رمیز راجہ نے  پاکستانی کرکٹ کیلئے اچھا کام کیا۔- PSL کی کامیابی اور اسے برانڈ بنانے میں نجم سیٹھی کی انتھک محنت ہے۔ لیکن حالیہ کچھ برسوں میں چئیرمن، کوچز، سلیکشن کمیٹی ، اور متعد عہدیداران لگاتار تبدیل ہوتے گئے جسکی وجہ سیاسی مداخلت اور عمل دخل ہے جس  نے پاکستانی کرکٹ کے شیرازہ کو بکھیر کر رکھ دیا۔ اور اسکے مضبوط بنیادی ڈھانچے کے ہلا کر رکھ دیا۔
پاکستانی کرکٹ میں سیاسی مداخلت کے وجوہات میں !
- کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا تقرر سیاسی بنیادوں پر.
- کرکٹ ٹیم کے کپتان کا تقرر سیاسی دباؤ میں.
- کرکٹ ٹیم کے انتخاب میں سیاسی مداخلت کی جاتی ہے۔
- کرکٹ بورڈ کے اہم فیصلوں میں سیاسی دباؤ کا استعمال کیا جاتا ہے اور بے جا مداخلت کی جاتی ہے۔۔
ملک میں ڈومیسٹک کرکٹ کو بھلا کر رکھ دیا جبکہ اسی سطح کی کرکٹ  سے اچھے اور قابل کھلاڑی پیدا ہوئے اور پاکستان کی نمائندگی کر کے پاکستان کو اعلیٰ مقام دلایا۔
پچھلی حکومت میں اس ذزرخیز سیٹ اپ یعنی ڈومیسٹک/ڈپارٹمنٹل کرکٹ کو خیرباد کہ دیا گیا تھا اور مختلف اداروں/ڈپارٹمنٹل کرکٹ کو ختم کر کے اس نرسری کو تباہ کردیا گیا اور کھلاڑیوں کے روزی، روزگار کو ختم کرنے کی سازش کی گئی۔
سیاسی مداخلتوں کے نتیجے میں پاکستانی کرکٹ میں بہت گھمبیر مسائل پیدا ہوئے ہیں جس کی وجہ سے کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں نمایاں کمی ہوء۔ ان تبدیلیوں کا اثر کرکٹ بورڈ میں عدم استحکام کا باعث بنا، کرکٹ کھلاڑیوں میں عدم اعتماد کی فضاء￿  پیدا ہوء اور شائقین کرکٹ  میں مایوسی سرایت کر گئی۔
اب کرکٹ میں سوائے جان ہہچان، اقربا پروری اور پرچی سسٹم نے پاکستانی کرکٹ کو بربادی کی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ جو کھلاڑی کاردگی دکھاتے ہیں انہں برسوں چانس نہیں ملتا وہ کلب کرکٹ اور جو تھوڑی بہت ڈومیسٹک کرکٹ بچی ہے وہی کھیل کر فارغ ہو جاتے ہیں۔ دنیائے کرکٹ میں بڑے بڑے کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر اپنی کاردگی سے مرعوب کرتے ہیں پھر اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں اور اپنے ملک کیلئے فخر کا باعث بنتے ہیں جس کی مثال آسٹریلیا ، انگلینڈ، انڈیا اور نیوزی لینڈ ہیں جن کے کھلاڑیوں نے پہلے ملکی سطح پر اور اب بین القوامی طور پر اپنے آپ کو منوا یا ہے اور اپنے ملک کا نام اجاگر کر رہے ہیں۔
 پاکستان میں نوجوانوں میں ٹیلینٹ کی کمی نہیں ایک سے بڑھ کر ایک کھلاڑی دستیاب ہوسکتے ہیں۔ پاک وطن میں اچھے اور بہتر کھلاڑیوں کا ذخیرہ ہے بات صرف ان کو صحیح وقت پر چانس دینے اور منتخب کرنے پر منحصر ہے۔ ہمارے یہاں کھلاڑی جان پہچان اور پرچی سسٹم پر منتخب ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اہل کھلاڑیوں کو حق مارا جاتا ہے۔ اچھی کاردگی دکھانے والے پیچھے رہ جاتے ہیں اور حیران کن امر یہ ہے کے جن کی کاردگی نہیں وہ ٹیم کا حصہ ہیں  اور اگر نہ بھی کھیلیں تو کھلاڑیوں میں ان کا نام شامل ہے اور وہ ٹیم کے ساتھ دوروں میں شامل پوتے ہیں اور دوروں  کے مزے بھی لوٹ رہے ہیں۔سنٹرل کنٹریکٹ کی خوشیاں بھی مل رہی ہیں لیکن کاردگی صفر۔ سونے پہ سہاگا PSL میں کاردگی کی بنیاد پر بھی کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جاتا ہے جبکہ فارمیٹ یہ ہونا چاہئے کے ڈومیسٹک کرکٹ میں اگر کارکردگی بہتر ہے تو اس کھلاڑی کو موقع ملنا چاہئے مگر افسوس صد افسوس PSL میں جس نے 2 چھکے ماردئیے وہ کامیاب اور ٹیم کا حصہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ کھلاڑی جو بنیادی کرکٹ نہیں جانتے وہ بین الاقوامی سطح پر کامیاب نہیں ہوتے اور خود بھی شرمندہ ہوتے ہیں قوم کو بھی شرمندہ کرتے ہیں اور ملک کیلئے بھی سبکی کا باعث بنتے ہیں۔ جس کی روشن مثال ایشیا کپ 2025 میں پاکستانی کھلاڑیوں کی ناقص  کاردگی، کوچ اور کپتان کا بروقت اور درست فیصلہ نہ کرنا اور پرچی سسٹم  یے۔ 
 
موجودہ چیئر مین ایک اچھی اور سلجھی شخصیت کے مالک  ہیں مگر کرکٹر نہیں وہ ایڈمنسٹریٹویو طور پر بہت اچھے طریقے سے پی۔سی۔بی کو اپنے اچھے دور اور منزل پر پہنچا سکتے ہیں اسکے لئے انہیں اچھے، نیک نیت ، تعصب سے مبرّا ، محنتی، مخلص اور کرکٹ کو سمجھنے، عوامی درد رکھنے والے عہدیداران /اسٹاف اور انقلابی اقدامات  کی ضرورت ہے وہ ایسے لوگوں کو منتخب کریں جو
پاکستانی کرکٹ کو بہتر بنانے کے لیے سیاسی مداخلت کو کم کریں، صرف اور صرف میرٹ کا انتخاب، پرچی سسٹم کا خاتمہ،  کاکردگی اور ایمانداری پر پاکستان کی ٹیم کو منتخب کریں۔ ڈومیسٹک کرکٹ کو فروغ دیں۔ ڈپارٹمنٹل سسٹم کو فعال کریں۔ نچلی سطح پر اسٹاف اور کھلاڑیوں کو مناسب مشاہرہ دیں۔ کھلاڑی بڑا ہو یا چھوٹا ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا ضروری ہو اور اس میں اچھی کاردگی دکھانے والے کھلاڑی کو موقع دیں۔کھلاڑی اگر کاردگی نہیں دکھا پارہا تو اسے اس بات کا پابند کریں کے وہ صرف اور صرف ڈومیسٹک سیزن میں اچھی کاردگی دکھاکر ہی قومی 
ٹیم میں جگہ بنا سکتا ہے۔ 
جو کاردگی نہ دکھائے اسے سنٹرل کنٹریکٹ میں تنزلی دی جائیتو کوء وجہ نہیں کے کھلاڑی محنت ، اچھی کاردگی کیلئے جتن کریں اور اپنا اور ملک کا مقام اور نام بنائیں۔ 
ان انقلابی اقدامات سے پاکستان کرکٹ میں بھی اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتا ہے اور ہمیں شرمندگی کے بجائے اپنی ٹیم پر فخر ہوگا۔ جب ٹیم اچھا کھیلتی ہے اور جی جان لگا کر محنت کرتی ہے اور اگر وہ ہار بھی جائے تو بھی قوم و پرستار یہی کہتے ہوئے گلے لگاتے ہیں کے : 
تم جیتو یا ہارو 
ھمیں تم سے پیار ہے۔