ڈاکٹر جمشید نظر
13 جون کو عالمی یوم آگاہی برائے آلبنزم منایا جاتا ہے، جو دنیا بھر میں آلبنزم کے شکار افراد کے حقوق اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کا دن ہے۔ یہ دن 2015 سے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں منایا جا رہا ہے جب جنرل اسمبلی نے 18 دسمبر 2014 کو اس دن کو عالمی سطح پر تسلیم کیا۔ اس دن کا مقصد آلبنزم کے شکار افراد کی مشکلات کو اجاگر کرنا، ان کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر آواز اٹھانا اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنا ہے۔آلبنزم ایک جینیاتی حالت ہے جس میں جسم میں میلانن نامی رنگت پیدا کرنے والا مادہ نہیں بنتا جس کے نتیجے میں جلد، بال اور آنکھوں میں رنگت کی کمی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے آلبنزم کے شکار افراد سورج کی شعاعوں سے جلدی متاثر ہوتے ہیں اور انہیں جلد کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی آنکھوں میں رنگت کی کمی کی وجہ سے بصارت میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں جس سے وہ بصری معذوری کا شکار ہو سکتے ہیں۔
دنیا کے مختلف حصوں میں آلبنزم کے شکار افراد کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ افریقہ کے بعض حصوں میں آلبنزم کے شکار افراد کو جادو ٹونے کے لیے استعمال کرنے کے لیے ان کے جسم کے اعضا نکالے جاتے ہیں جس سے ان کی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ ان افراد کو نہ صرف جسمانی تشدد کا سامنا ہوتا ہے بلکہ سماجی سطح پر بھی انہیں نظرانداز کیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان افراد کو تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع میں بھی مشکلات پیش آتی ہیںجس سے ان کی معاشی اور سماجی ترقی متاثر ہوتی ہے۔عالمی یوم آگاہی برائے آلبنزم کے موقع پر دنیا بھر میں مختلف سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں جن میں سیمینارز، ورکشاپس، آگاہی مہمات اور ثقافتی پروگرام شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد آلبنزم کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانا، اس کے شکار افراد کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنا اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنا ہے۔ اس دن کو منانے سے نہ صرف آلبنزم کے شکار افراد کی مشکلات کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ معاشرتی سطح پر ان کے ساتھ انصاف اور برابری کے سلوک کی اہمیت بھی واضح کی جاتی ہے۔پاکستان میں بھی آلبنزم کے شکار افراد کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہیں صحت کی سہولتوں، تعلیم اور روزگار کے مواقع میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اس کے علاوہ معاشرتی سطح پر بھی انہیں امتیازی سلوک کا سامنا ہوتا ہے جس سے ان کی زندگیوں میں مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالمی یوم آگاہی برائے آلبنزم کے موقع پر پاکستان میں بھی اس مسئلے پر توجہ دی جائے اور آلبنزم کے شکار افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
آلبنزم کے شکار افراد کو درپیش مسائل کا حل صرف حکومتی سطح پر نہیں بلکہ معاشرتی سطح پر بھی ممکن ہے۔ ہمیں اپنے معاشرتی رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی اور آلبنزم کے شکار افراد کے ساتھ ہمدردی اور برابری کا سلوک کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ تعلیم اور آگاہی کی مہمات کے ذریعے عوام کو آلبنزم کے بارے میں معلومات فراہم کرنی ہوںگی تاکہ اس کے شکار افراد کے ساتھ امتیازی سلوک کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔عالمی یوم آگاہی برائے آلبنزم ایک موقع ہے جب ہم سب کو مل کر آلبنزم کے شکار افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانی چاہیے اور ان کے ساتھ انصاف اور برابری کا سلوک کرنے کا عہد کرنا چاہیے۔ اس دن کو منانے سے نہ صرف آلبنزم کے شکار افراد کی مشکلات کا حل ممکن ہو گا بلکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے گا جہاں ہر فرد کو اس کے حقوق اور عزت کا مکمل تحفظ حاصل ہو۔