لاہور کے علاقے شاہدرہ میں 6 سالہ بچی کو بہیمانہ تشدد کے بعد قتل کرنے والی سوتیلی ماں کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ واقعے کا نوٹس ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے لیا تھا، جس کے بعد ملزمہ کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔
انچارج انویسٹی گیشن تھانہ شاہدرہ رانا عمر دراز نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ کو گرفتار کیا۔ رانا عمر دراز کے مطابق ملزمہ نے اپنی سوتیلی بیٹی 6 سالہ کنزالایمان کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا تھا، جس کے بعد وہ موقع واردات سے فرار ہو گئی تھی۔ایس پی انویسٹی گیشن سٹی فرحت عباس نے بتایا کہ مقدمے کے مدعی سید عابد حسین نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے رکھی تھی اور ان کے تین بچے اسی کے پاس تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملزمہ نہایت درندہ صفت ہے اور اس نے کمسن بچی پر بے رحمانہ تشدد کیا۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا کے مطابق ملزمہ کو مختلف معلومات اور ہیومن انٹیلی جنس کی مدد سے ٹریس کر کے گرفتار کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزمہ پولیس کی گرفت میں ہے اور اس کے خلاف مضبوط چالان مرتب کر کے اسے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے واضح کیا کہ بچوں اور کمزور طبقات کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کے لیے تعریفی اسناد دینے کا اعلان بھی کیا۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزمہ کے خلاف مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور تفتیش کا دائرہ بھی وسیع کیا جا رہا ہے۔