مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ کاردار نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران انسانی اسمگلنگ کے مسئلے پر اظہار خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انسانی اسمگلنگ ایک پرانا مسئلہ ہے جو حالیہ برسوں میں بڑھ گیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے 15 دسمبر کو پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کا ذکر کیا، جب ایک کشتی سمندر میں ڈوب گئی تھی، جس میں 80 پاکستانی سوار تھے۔ اس حادثے میں پانچ پاکستانی جان سے گئے اور 47 لاپتہ ہوگئے۔عظمیٰ کاردار نے بتایا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اس سنگین مسئلے پر قابو پانے کے لیے پارلیمنٹیرینز کی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی کا مقصد انسانی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے قانونی اقدامات کرنا ہے تاکہ اس غیرقانونی سرگرمی کو روکنے میں مدد مل سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی نے منڈی بہاؤ الدین سے دو انسانی اسمگلرز کو گرفتار بھی کیا ہے، اور اس طرح کے اقدامات کا مقصد اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو توڑنا اور اس مسئلے پر قابو پانا ہے۔ عظمیٰ کاردار نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانیوں کو غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک بھیجنے والے اسمگلرز کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔