وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ مذاکرات میں وہ نکات تلاش کیے جا سکتے ہیں جو دونوں فریقین کے لیے آسان ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیاست میں اختلافات کا ہونا معمول کی بات ہے، مگر ریاستی مفادات پر اتفاق رائے ضروری ہے۔ رانا ثنااللہ نے واضح کیا کہ نہ پی ٹی آئی کو ہماری تمام باتیں ماننی ہوںگی اور نہ ہی ہمیں ان کی سب باتوں کو تسلیم کرنا ہے۔مذاکرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ جب پی ٹی آئی اپنے مطالبات بلیک اینڈ وائٹ میں پیش کرے گی تو حکومت ان مطالبات کا جائزہ لے گی اور پھر اس کے مطابق ایک طریقہ کار ترتیب دیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا کہ 2 جنوری کو پی ٹی آئی کا "چارٹر آف ڈیمانڈ" سامنے آ جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی بانی پارٹی کی رہائی کا مطالبہ کرتی ہے تو اس بات پر وزیراعظم سے بات ہو سکتی ہے، اور مطالبات کی تکمیل کے لیے مناسب طریقہ کار طے کیا جائے گا۔مدارس رجسٹریشن بل کے حوالے سے رانا ثنااللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے یہ کہا ہے کہ جو مدارس وزارت تعلیم کے ساتھ جڑنا چاہتے ہیں، ان سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مدارس رجسٹریشن کے مسئلے پر قانونی ٹیم غور کر رہی ہے اور اس حوالے سے معاملات حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔