ویب ڈیسک: پاکستان کے سفارتی وفد کے سربراہ اور چیئرمین پیپلز پارٹی، بلاول بھٹو زرداری نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو چینی کمپنی “ٹیمو” سے تشبیہہ دینے پر وضاحت پیش کی ہے۔
بلاول کا مؤقف:
بلاول نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ مودی کو ’ٹیمو‘ سے مثال دینے کا مقصد صرف اور صرف لوگوں کو پیغام آسانی سے سمجھانے میں مدد دینا تھا۔ ان کے الفاظ میں:"یہ تشبیہہ جب لوگوں تک پہنچائی جائے تو کم الفاظ میں شکل میں پیغام پہنچتا ہے۔"
امن و مذاکرات کی خواہش:
بلاول نے کہا کہ وہ امن کا پیغام لے کر گئے ہیں اور ممکنہ جوہری تنازع کے دوران مذاکرات چاہ رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا موقف حقیقت پر مبنی اور مضبوط ہے، اور امریکہ بھی جانتا ہے کہ پاکستان دہشت گرد گروہوں سے کیسے نمٹتا ہے۔
پاکستان اور امریکا کے تعلقات:
بلاول کا کہنا تھا کہ:"امریکی ادارے اور حکومت پاکستان کے اقدامات کو تسلیم کرتی ہے، خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف ہماری کاوشوں کو۔"
عمران خان پر تنقید:
بلاول نے ماضی میں اپوزیشن مؤقف پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ دوران جنگ پورا ملک متحد تھا اور وزیراعظم نے اپوزیشن کو پارلیمانی تعاون کی دعوت دی، مگر پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے مداخلت میں فوج سے رابطہ ترجیح دیا، جو ان کے نزدیک غیر جمہوری اور غیر پارلیمانی رویہ تھا۔