پی ٹی آئی کے کچھ رہنما مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہیں، لیکن سوشل میڈیا تنقید سے محتاط ہیں:رانا ثنا اللہ

پی ٹی آئی کے کچھ رہنما مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہیں، لیکن سوشل میڈیا تنقید سے محتاط ہیں:رانا ثنا اللہ

وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان ممکنہ مذاکرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ پی ٹی آئی کے رہنما مذاکرات کے لیے اتنے ہی سنجیدہ ہیں جتنے حکومت کی طرف سے پیش کی جانے والی تجاویز پر۔

 تاہم، رانا ثنا اللہ کے مطابق، پی ٹی آئی کے بعض رہنما اس بات کو کھل کر اس لیے نہیں کہہ پاتے کیونکہ انہیں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے وہ سیاسی طور پر مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر مذاکرات کی بات اس مقام تک پہنچی ہے تو اس میں پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا مہم اور الزامات کا بھی عمل دخل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا مہم نے اس سیاسی فضا کو مزید پیچیدہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے رہنما کھل کر بات کرنے میں محتاط ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات کا عمل 31 جنوری تک مکمل ہونے میں کوئی مشکلات نہیں آئیں گی، اور دونوں طرف سے سنجیدہ خواہشات موجود ہیں کہ بات چیت جاری رکھی جائے۔

رانا ثنا اللہ نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2021 میں جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق پالیسی پر بریفنگز ہو رہی تھیں، تو پی ٹی آئی کے بانی عمران خان، جو اُس وقت وزیر اعظم تھے، ان بریفنگز میں شرکت تک نہیں کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی حیثیت سے عمران خان کا فرض تھا کہ وہ اس نوعیت کی پالیسیوں پر فیصلہ کرتے، لیکن وہ ان بریفنگز میں شریک نہیں ہوئے۔رانا ثنا اللہ کے مطابق، پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو مذاکرات کے حوالے سے واضح موقف اختیار کرنا چاہیے، لیکن موجودہ حالات میں وہ سوشل میڈیا کی ردعمل کے خوف سے اس بارے میں کھل کر نہیں بول پا رہے۔