ملک کے بالائی علاقوں میں سردی کی شدت، درجہ حرارت منفی ڈگری تک گر گیا

ملک کے بالائی علاقوں میں سردی کی شدت، درجہ حرارت منفی ڈگری تک گر گیا

پاکستان کے بالائی اور پہاڑی علاقوں میں سردی کی شدید لہر جاری ہے، جس کے باعث درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے پہنچ چکا ہے۔

 مختلف علاقوں میں خون جما دینے والی سردی نے معمولات زندگی متاثر کر دیے ہیں، جبکہ صحت، تعلیم، اور ٹرانسپورٹ کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مختلف علاقوں کا درجہ حرارت
لہہ: پارہ منفی 13 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا۔
سکردو: منفی 11 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔
استور اور گوپس: درجہ حرارت منفی 8 ڈگری۔
کاغان ویلی اور گلگت: منفی 7 ڈگری۔
کوئٹہ اور زیارت: منفی 6 ڈگری سینٹی گریڈ۔
ہنزہ، دیر، اور بگروٹ: منفی 5 ڈگری۔
شوگراں: درجہ حرارت منفی 1 ڈگری ریکارڈ ہوا۔
سردی کے اثرات
پانی جم گیا:
کناری ڈیم کی جھیل، آبشاروں، اور ندی نالوں کا پانی جم چکا ہے، جس سے مقامی افراد کو پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
صحت کے مسائل:
اپر دیر میں خشک سردی کے باعث نزلہ، زکام، اور سینے کی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے۔
تعلیمی ادارے:
اپر دیر کے رہائشیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سردی کے پیش نظر تعلیمی ادارے بند کیے جائیں۔
دیگر علاقوں کا موسم
کراچی:
کراچی میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، جہاں پارہ 10 ڈگری تک گر گیا۔

موجودہ درجہ حرارت: 13 ڈگری سینٹی گریڈ
زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت: 24 ڈگری تک پہنچنے کا امکان
ہوائیں: 13 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شمال مشرق کی سمت میں چل رہی ہیں۔
فضائی آلودگی: AQI 239 ریکارڈ کیا گیا، جو مضر صحت ہے۔
آلودہ علاقے: گلشن اقبال، شاہرہ فیصل، اور کورنگی۔
پنجاب، سندھ، اور خیبر پختونخوا:
دھند اور اسموگ کے باعث حد نگاہ متاثر ہوئی ہے، جبکہ بالائی علاقوں میں سردی کی شدت برقرار ہے۔
گلگت بلتستان اور کشمیر:
مطلع ابر آلود رہنے کے ساتھ ہلکی بارش اور برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی
سردی کی شدت میں مزید اضافے کا امکان ہے۔شہریوں کو گرم لباس پہننے، صحت کا خیال رکھنے، اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔کراچی کے رہائشیوں کو ماسک پہننے اور آلودگی سے بچاؤ کی تدابیر اپنانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔یہ سرد موسم نہ صرف روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ صحت اور ٹرانسپورٹ جیسے مسائل میں بھی اضافہ کر رہا ہے، جس کے باعث شہری حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔