اجلاس میں بجلی کی مسلسل بندش، گندم فراہمی اور معیار کو بہتر بنانے میں مبینہ ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار
میرپور(آئی این پی )آزاد جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی تحریک کی قیادت کرنے والے سول سوسائٹی کے اتحاد نے اپنے نیٹ ورک کو نچلی سطح تک پھیلانے کے منصوبوں کے دوران حکام کو خبردار کیا ہے کہ وہ اگلے 6 ماہ میں اپنے وعدے پورے کریں ورنہ نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ انتباہ ضلع میرپور کے چکسواری قصبے میں جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے گذشتہ شب ایک اجلاس کے دوران جاری کیا گیا، جہاں کئی دیگر اہم فیصلے بھی کیے گئے۔اجلاس میںاس بات کی یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ 8دسمبر کو سرکاری وفد کیساتھ ہونے والے مذاکرات کے بعد چارٹر آف ڈیمانڈ اور اس حوالے سے 4 فروری کے نوٹیفکیشن پر عمل درآمد کے لیے 6ماہ کا عرصہ دیا گیا ہے۔اس چھ ماہ کی مدت کے دوران جے کے جے اے اے سی کی ذیلی کمیٹیاں متعلقہ اضلاع کے کور کمیٹی ممبران کی مشاورت سے یونین کونسل اور وارڈ کی سطح پر تشکیل دی جائیں گی، تاکہ عوام کو متحرک کیا اور تنظیم کو بڑھایا جاسکے۔اجلاس میں رتھوا حریم پل کی تعمیر میں تاخیر، پراپرٹی ٹرانسفر ٹیکس کی کم شرح پر عمل درآمد نہ ہونے، بجلی کی مسلسل بندش، کم وولٹیج کے مسائل ، گندم کے آٹے کی فراہمی اور معیار کو بہتر بنانے میں مبینہ ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو انتباہ کیا گیا کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرے بصورت دیگر حکمران اس کے نتائج کی مکمل ذمہ داری کا سامنا کریں گے۔